سورۃ البروج=surah85

سورت کا نمبر: 85
سورت کا نام: سورۃ البروج
ماخوذ از: فی ظلال القرآن، السید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ

مرکزی مضمون (Central Theme)

اردو: کائناتی وسعتوں کی روشنی میں حق اور باطل کا ابدی تصادم، جہاں ظالموں کی بے حسی کے خلاف الٰہی انصاف متحرک ہوتا ہے، اور جسمانی فنا کے مقابلے میں نظریے اور عقیدے کی حفاظت ہی اصل اور حتمی کامیابی قرار پاتی ہے۔

English: The eternal clash between truth and falsehood in the light
of cosmic vastness, where Divine justice activates against the apathy of oppressors, and the preservation of ideology over physical survival is declared the ultimate victory.

تفسیری محور (مرکزی آیت)

عربی: ﴿وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ﴾ (آیت 9 کا آخری حصہ)
اردو ترجمہ: “اور اللہ ہر چیز پر (محیط اور) گواہ ہے۔”

یہ مرکزی آیت کیوں ہے؟

یہ آیت اس سورت کا دل ہے۔ پوری سورت کی ساخت اس ایک نقطے کی طرف کھنچتی ہے اور پھر یہیں سے پھیلتی ہے۔ ظالموں نے آگ کا گڑھا کھودا اور اس کے کنارے بیٹھ گئے، ان کا گمان تھا کہ طاقت ان کے پاس ہے اور وہ اپنے اس ظلم کے خود “گواہ” (شُهُودٌ) ہیں۔ یہ ان کی محدود اور بونی سوچ تھی۔ یہ آیت ایک کائناتی دھماکے کی طرح نازل ہوتی ہے اور بتاتی ہے کہ اصل گواہ تم نہیں، بلکہ وہ ذات ہے جو پوری کائنات کا ذرہ ذرہ دیکھ رہی ہے۔ اس آیت سے پہلے کی تمام قسمیں (آسمان، ستارے) اسی حتمی گواہ (اللہ) کا تعارف ہیں، اور اس آیت کے بعد ملنے والی سزائیں اور انعامات اسی حتمی گواہ کے فیصلے ہیں۔ یہیں سے دنیاوی ظلم کا باب بند ہوتا ہے اور الٰہی انصاف کا دروازہ کھلتا ہے۔

پسِ منظر:

یہ سورۃ کس ماحول میں نازل ہوئی؟ یہ مکہ کا وہ دور تھا جب چند مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے۔ سید قطب رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، اس کٹھن وقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایک ماضی کا ہولناک مگر شاندار واقعہ سنایا۔

یہ واقعہ ‘اصحابِ اخدود’ (خندق والوں) کا تھا۔ ایک ایسا وقت جب طاقت کے نشے میں چور ظالموں نے اللہ کو ماننے والوں سے کہا کہ اپنا عقیدہ چھوڑ دو۔

جب انہوں نے انکار کیا، تو ظالموں نے زمین میں ایک لمبی خندق کھودی اور اس میں بھڑکتی ہوئی آگ جلا دی۔ پھر انہوں نے زندہ انسانوں—جن میں عورتیں اور بچے بھی تھے—کو اس آگ میں پھینکنا شروع کر دیا۔ یہ منظر بظاہر مومنین کی دردناک شکست معلوم ہوتا تھا، لیکن اللہ نے مکہ کے مسلمانوں کو بتایا کہ اصل کامیابی زمین پر چند سال مزید جی لینا نہیں ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آگ میں جل کر بھی تمہارا ایمان سلامت رہے۔ وہ جان دے کر بھی جیت گئے اور ظالم مار کر بھی ہار گئے۔

پہلی شاخ: کائناتی حلف اور ظلم کا تماشا (آیات 1 سے 9)

آغاز زمین سے نہیں، بلکہ کائنات کی لرزہ خیز اور ہیبت ناک وسعتوں سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورت کے آغاز ہی میں انسانی سوچ کو ایک کائناتی دھچکا (Cosmic Shock) دیتا ہے: ﴿وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ﴾ (قسم ہے برجوں والے آسمان کی)۔
یہ “بُرُوج” محض نجومیوں کے خیالی خاکے (Zodiac signs) نہیں ہیں، بلکہ کائناتی اور لسانی اعتبار سے یہ کائنات کے وہ دیوہیکل قلعے اور محلات (Galactic Fortresses & Superclusters) ہیں جنہوں نے اربوں ستاروں کو اپنی کششِ ثقل میں جکڑا ہوا ہے، اور یہ ستاروں کی تخلیق کے وہ عظیم ستون (Pillars of Creation / Nebulae) ہیں جو آسمان میں خیموں کی طرح کھڑے ہیں۔

ان ناقابلِ تصور حد تک بڑے کائناتی قلعوں کی قسم کھانے کے بعد، سورت اچانک زوم اِن (Zoom-in) کرتی ہے اور اس کائنات میں ریت کے ذرے سے بھی چھوٹی ایک جگہ یعنی زمین پر آ جاتی ہے۔ اور اس حقیر سے ذرے زمین پر کیا ہو رہا ہے؟ کچھ متکبر انسانوں نے ایک چھوٹی سی خندق (اخدود) کھودی ہے اور اس میں ایندھن والی آگ جلا رکھی ہے۔ کائناتی برجوں کے مقابلے میں یہ خندق انسان کی اوقات اور اس کے غرور کی حقارت کو ظاہر کر رہی ہے۔
یہاں ایک خوفناک نفسیاتی پہلو سامنے آتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ وہ ظالم صرف مظلوموں کو مار نہیں رہے تھے، بلکہ وہ اس آگ کے کنارے کرسیاں لگا کر بے حسی کے ساتھ بیٹھے تھے (قُعُودٌ) اور اس ظلم کا تماشا دیکھ رہے تھے (شُهُودٌ)۔ ان کی درندگی صرف قتل تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ دوسروں کی چیخوں اور تکلیف کو ایک تفریح (Entertainment) کے طور پر انجوائے کر رہے تھے۔ ان کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ غالب اور خوبیوں والے اللہ پر ایمان لائے تھے۔

مرکزی مضمون سے ربط (The Link to the Core):

ظالم خندق کے کنارے بیٹھ کر خود کو بہت بڑی طاقت سمجھ رہے تھے اور اپنے ظلم کے خود گواہ (شُهُودٌ) بنے ہوئے تھے۔ لیکن یہیں سے یہ شاخ اس سورت کے “بلیک ہول” (مرکزی آیت) سے پوری قوت سے ٹکراتی ہے۔ کائناتی اصول بتاتا ہے کہ اے ظالمو! تم زمین کے اس ذرے پر اپنی جلائی ہوئی حقیر سی آگ کے گواہ ہو کر غرور کر رہے ہو، ذرا اوپر دیکھو! جس رب نے اربوں نوری سال پر محیط وہ کائناتی قلعے (بُرُوج) تھام رکھے ہیں، اصل گواہ تو وہ ہے: ﴿وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ﴾ (اور اللہ ہر چیز پر—ان دیوہیکل برجوں سے لے کر تمہاری اس چھوٹی سی خندق تک—محیط اور گواہ ہے)۔

دوسری شاخ: کائناتی انصاف، عناصر کی کیمسٹری، اور ‘فتح’ کا نیا نظریہ (آیات 10 سے 11)

پہلی شاخ میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں نے زمین پر آگ جلا کر خود کو غالب سمجھا، لیکن آسمان کے دیوہیکل برجوں والے رب نے اعلان کیا کہ ﴿وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ﴾ (وہ ہر چیز کا حتمی گواہ ہے)۔ اب جب کائنات کا سب سے بڑا گواہ سب کچھ ریکارڈ کر چکا ہے، تو منطقی طور پر کائنات کی سب سے بڑی عدالت لگنی ہے۔
یہیں سے دوسری شاخ شروع ہوتی ہے۔

اللہ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ﴾
(بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو آزمائش میں ڈالا اور توبہ نہ کی، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور ان کے لیے جلادینے والی آگ کا عذاب ہے)۔
ظالموں کا ہتھیار کیا تھا؟ ﴿النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ﴾ (ایندھن والی آگ)۔ کیمسٹری کے اصول کے مطابق، زمین کی آگ محض “آکسیڈیشن” (Oxidation) کا ایک عارضی عمل ہے جو تب تک جلتا ہے جب تک لکڑی یا ایندھن (وقود) موجود ہو۔ جونہی انسانی جسم راکھ بنا، آگ بجھ گئی اور ظالموں کا اختیار ختم ہو گیا۔

لیکن کائنات کے رب نے ان ظالموں کے لیے کون سی کیمسٹری تیار کی ہے؟

اللہ نے دو سزائیں بیان کیں: عذابُ جہنم (جس میں ان کی ذلت اور رسوائی ہے) اور عذابُ الحَرِيق (جلنے کی جسمانی اذیت)۔ اللہ بتا رہا ہے کہ تم نے میرے بندوں کے بائیولوجیکل خلیوں (Cells) کو زمین کی اس معمولی سی آگ سے توڑا، اب میں تمہیں کائنات کی اس ابدی آگ میں ڈالوں گا جس کا ایندھن کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تم نے چند منٹ کی تپش دی، کائنات کا قانون تمہیں زمان و مکان (Space and Time) سے ماورا ابدی تپش دے گا۔جو کبھی ختم نہ ہوگا

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں۔ ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾

(بے شک جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں)۔

ظالموں نے مومنین کے گرد گرمی، تپش، خشکی اور آگ (Fire) کا ماحول بنایا تھا۔ فزکس میں حرارت مالیکیولز کو بکھیرتی اور تباہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بالکل متضاد عنصر، یعنی پانی، ٹھنڈک، اور بہتی نہروں (Water/H2O) کو ان کا انعام مقرر کیا۔ کیمسٹری اور بائیولوجی میں پانی (Water) زندگی، سکون، اور تخلیق کی علامت ہے۔ جن جسموں کا پانی دنیاوی آگ نے خشک کر کے انہیں کوئلہ بنا دیا تھا، اللہ نے انہیں کائنات کے سب سے سرسبز اور ابدی ہائیڈریشن (Hydration) والے ماحول یعنی باغات اور نہروں کے حوالے کر دیا۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے : ﴿ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ﴾ (یہی سب سے بڑی کامیابی ہے!)
یہاں سید قطب رحمۃ اللہ علیہ انسانی تاریخ اور فلسفے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں: “کون سی کامیابی؟ مومنین تو زندہ جل گئے! ان کی تو نسلیں ختم ہو گئیں! دنیاوی آنکھ (Biology اور زمینی فزکس) تو اسے بدترین شکست اور موت کہتی ہے، پھر اللہ اسے ‘سب سے بڑی کامیابی’ کیوں کہہ رہا ہے؟

اس کا جواب سید قطبؒ یوں دیتے ہیں کہ ظالموں کا اصل ہدف مسلمانوں کے ‘جسم’ نہیں تھے، بلکہ ان کا ہدف وہ ‘نظریہ’ (ایمان) تھا جو ان جسموں کے اندر تھا۔ ظالم چاہتے تھے کہ یہ لوگ ایمان چھوڑ دیں۔
جب مومنین نے آگ میں چھلانگ لگا دی، تو دراصل ان کے جسم جلے، ان کا نظریہ نہیں جلا! جسم تو ویسے بھی کاربن اور پانی کا مجموعہ ہے، جسے آج نہیں تو کل مٹی میں ملنا ہی تھا۔ لیکن انہوں نے ایک فانی اور عارضی جسم کو دے کر ایک ابدی اور ناقابلِ تسخیر نظریہ بچا لیا۔ انسان کی اصل حقیقت اس کا گوشت پوست نہیں، بلکہ اس کا عقیدہ ہے۔
سید قطبؒ کے مطابق: جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے کہ دنیا کی خوفناک ترین آگ بھی اس کے نظریے کو پگھلا نہ سکے، اور وہ جسم کی موت کو مسکرا کر گلے لگا لے تاکہ اس کی روح آزاد ہو کر کائناتی خالق سے مل جائے… تو بظاہر ظالم خندق کے کنارے تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں، مگر کائنات کے نظام میں ظالم ہار چکا ہوتا ہے اور راکھ میں تبدیل ہونے والا مظلوم کائنات کا سب سے بڑا فاتح بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے رب نے ان کے جل جانے کو ‘الفوز الکبیر’ (سب سے بڑی کامیابی) قرار دیا۔

اگلی شاخ کی طرف منطقی سفر (Transition to Branch 3):

جب دوسری شاخ میں یہ واضح ہو گیا کہ اصل کامیابی جسم کی بقا نہیں بلکہ نظریے کی حفاظت ہے، اور ظالموں کا کائناتی آگ اور مظلوموں کا جنت کی نہروں سے سامنا ہونا ہے، تو قاری کے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے:
“وہ ذات کیسی ہے جو آگ سے بنے اس کوئلے کو دوبارہ انسان بنا کر جنت کی نہروں میں اتارے گی؟ اور جو ان ظالموں کو کائناتی آگ میں ڈالے گی؟ اس کی طاقت کیا ہے؟

یہی وہ سوال ہے جو ہمیں براہِ راست تیسری شاخ (آیات 12 سے 16) میں اللہ کی قہار اور ودود (محبت کرنے والی) صفات کے کائناتی تعارف کی طرف لے جاتا ہے۔

تیسری شاخ: حاکمِ مطلق کی صفات (آیات 12 سے 16)

پچھلی شاخ میں کائنات کے سب سے بڑے گواہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا
لیکن زمین کے چھوٹے سے گڑھے کے کنارے بیٹھے ہوئے بدمست فرعونوں اور ظالموں کو اس فیصلے کی ہیبت کا اندازہ نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ اس ذات کی اصل طاقت اور کائناتی حیثیت ان کے سامنے نہ رکھی جائے۔
یہیں سے سورت تیسری شاخ میں داخل ہوتی ہے۔

جب اللہ نے ظالموں کو ابدی عذاب اور مظلوموں کو جنت کا مژدہ سنایا، تو انسانی ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ جو جسم آگ میں جل کر راکھ اور دھواں بن گیا، کیا وہ دوبارہ بن سکتا ہے؟ اللہ ان 5 آیات میں اپنی وہ ہیبت ناک اور محبت بھری صفات بیان کرتا ہے جو اس نظام کو چلاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ایک لرزہ خیز اعلان کرتا ہے: ﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ (بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے)۔

اس آیت کا ربط خندق کے کنارے بیٹھے ظالموں کی “پکڑ” سے ہے۔ وہ ظالم کمزور انسانوں کو پکڑ کر اپنی آگ میں ڈال رہے تھے۔ اللہ فرما رہا ہے کہ تمہاری پکڑ محدود اور فانی ہے، لیکن تمہارے رب کی پکڑ اس کائنات کے ہر ذرے اور ہر ظالم کو یوں دبوچ لے گی کہ فرار کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ یہ کائنات کا حتمی بلیک ہول ہے جس کی کشش سے کوئی طاقتور نہیں بچ سکتا۔
﴿إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ﴾ (بے شک وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے، اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا)۔
یہاں تھرموڈینامکس کا وہ کائناتی راز چھپا ہے جو جدید سائنس کی معراج ہے۔ فزکس کہتی ہے کہ جب کوئی چیز جل کر راکھ (Ash) اور دھواں (Gas) بنتی ہے، تو وہ انٹروپی (انتشار) کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے بکھر جاتی ہے اور خود بخود دوبارہ اپنی اصل حالت میں واپس لانا ناممکن حد تک مشکل ہے
اصحابِ اخدود نے مومنین کو جلا کر راکھ کیا تو ان کا گمان تھا کہ یہ جسم ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے ﴿يُبْدِئُ وَيُعِيدُ﴾ کہہ کر چیلنج کیا کہ تمہارے لیے مشکل ہوگا میرے لیے نہیں ۔ وہ فرما رہا ہے کہ جس طرح میں نے پہلی بار ڈارک میٹر، توانائی اور مٹی سے ان کو پیدا کیا تھا (يُبْدِئُ)، میں بکھرے ہوئے مالیکیولز، دھوئیں اور راکھ کو اسی طرح واپس جوڑ کر انہیں دوبارہ زندہ کر دوں گا (يُعِيدُ)۔ یہ میری طاقت ہے۔

ظالموں کی آگ صرف شکل بدل سکتی ہے، وہ وجود نہیں مٹا سکتی۔
اور وجود میں لاکھڑا کروں گا میرے لیے کوئی مشکل نہیں

پھر فرمایا ہے
﴿وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ﴾ (اور وہ بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے)۔
سید قطب رحمۃ اللہ علیہ اس آیت پر آ کر ایک عجیب کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ذرا اس تضاد (Contrast) پر غور کرو! ایک طرف ایسی ہیبت ناک گرفت اور سخت پکڑ ہے، اور دوسری طرف اللہ اپنے لیے دو نام چنتا ہے: الغفور (بخشنے والا) اور الودود (شدید محبت کرنے والا)۔

ظالموں کے لیے الوداعی موقع: اللہ کتنا کریم ہے کہ جن ظالموں نے اس کے بندوں کو آگ میں زندہ جلایا، اللہ انہیں بھی کہہ رہا ہے کہ اگر اب بھی توبہ کر لو، تو وہ “الغفور” ہے۔
مظلوموں کے لیے کائناتی مرہم: سید قطبؒ فرماتے ہیں کہ آگ کے گڑھے میں جلتے ہوئے مومنین کے جسموں پر جو چھالے پڑے، جو تکلیف گزری… اللہ کا یہ نام “الودود” اس تکلیف پر بلسم (مرہم) کی طرح اترتا ہے۔ اللہ فرما رہا ہے کہ تم نے دنیا کی محبت کو میری محبت پر قربان کیا، اب تم اس “الودود” (محبت کرنے والے رب) کی ابدی آغوش میں ہو۔ دنیا نے تمہیں نفرت کی آگ میں پھینکا، میں تمہیں محبت کے سائے میں رکھوں گا۔

پھر فرمایا ﴿ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ ۞ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ﴾ (عرش کا مالک، بڑی شان والا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، اسے کر گزرتا ہے)۔
یہ آیات کائنات کے اس الٹیمیٹ کنٹرول روم (The Throne/عرش) کا ذکر کرتی ہیں جہاں سے زمین اور کائنات کے تمام نظام چلائے جا رہے ہیں۔ خندق والوں کا ارادہ تھا کہ وہ دین کو مٹا دیں، لیکن ﴿فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ﴾ (جو چاہتا ہے کرتا ہے) کے قانون کے تحت، ارادہ صرف عرش والے کا چلتا ہے۔ وہ چاہتا ہے تو آگ میں خلیل اللہ (ابراہیم علیہ السلام) کو بچا لیتا ہے، اور وہ چاہتا ہے تو خندق کے مومنین کو شہید کروا کر ان کے نظریے کو ابدی بنا دیتا ہے۔ انسان صرف اسباب دیکھتا ہے، جبکہ عرش والا کائناتی حکمت اور ارادے (Will) کے تحت فیصلے کرتا ہے۔

اگلی شاخ کی طرف منطقی سفر (Transition to Branch 4):
تیسری شاخ میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ میری پکڑ بڑی سخت ہے، میں موت اور زندگی کا مالک ہوں، اور میں “جو چاہتا ہوں کر گزرتا ہوں” (فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ)۔ تو انسانی دماغ (خاص طور پر ظالموں کا ذہن) جو صرف سامنے کی تاریخ دیکھتا ہے، ایک سوال کھڑا کرتا ہے:
“کیا یہ صرف ایک دعویٰ ہے؟ کیا اللہ نے واقعی کبھی زمین پر کسی ظالم کو سخت پکڑ سے پکڑا ہے؟ کیا تاریخ میں اللہ کے اپنے ارادے کو نافذ کرنے (فعال لما یرید) کی کوئی زندہ مثال موجود ہے؟”
یہی سوال ہمیں براہِ راست چوتھی شاخ (آیات 17 سے 22) کی طرف لے جاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ زمین کی تاریخ اور انسانوں کے “ڈیٹا سینٹرز” کی تباہی اور اپنے ڈیٹا (لوحِ محفوظ) کی بقا کا حیران کن ثبوت پیش کرتا ہے۔

چوتھی شاخ: تاریخی ڈیٹا کریش (Data Crash)، کائناتی گھیراؤ، اور ہیک پروف سرور ‘لوحِ محفوظ’ (آیات 17 سے 22)

پچھلی شاخ سے ربط: اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ “میری پکڑ سخت ہے” اور “میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں”۔ اب اللہ ان دعوؤں کی زندہ تاریخی مثالیں پیش کر کے مکہ کے کافروں اور آج کے ظالموں کا سارا غرور خاک میں ملا دیتا ہے۔

اللہ سوالیہ انداز میں مخاطب ہوتا ہے:
(کیا تمہارے پاس ان لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟ فرعون اور ثمود کے لشکروں کی!)

سید قطبؒ بتاتے ہیں کہ یہ محض کہانیاں نہیں ہیں، بلکہ کائنات میں اللہ کی طاقت (فعال لما یرید) کے دو مختلف نمونے ہیں۔
فرعون کا لشکر ایک بہت بڑا مادی طاقت اور ٹیکنالوجی کا مرکب تھا، لیکن اللہ نے اسے پانی (سمندر) میں غرق کر دیا۔

ثمود ایک ایسی قوم تھی جو پہاڑوں کو تراش کر مضبوط قلعے بناتی تھی (جو بظاہر اخدود والوں سے کہیں زیادہ طاقتور تھے)، لیکن اللہ نے انہیں ایک ہیبت ناک آواز (Sound Wave / Frequency Wave) سے تباہ کر دیا۔
اللہ مکہ کے کفار اور جدید دور کے ظالموں کو بتا رہا ہے کہ تم خندقیں اور بم بنا کر فخر کر رہے ہو؟ میں نے تو فرعون اور ثمود کے ‘ڈیٹا سینٹرز’ اور عسکری طاقتوں کو ایک لمحے میں مٹا دیا۔ تمہاری کیا اوقات ہے؟

(بلکہ کافر جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور اللہ نے انہیں ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے)۔

یہاں ایک جدید زاویہ ابھرتا ہے۔ ظالم (کافر) سمجھ رہے ہیں کہ وہ زمین پر آزاد ہیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کر رہے ہیں، لیکن اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک کائناتی جیل میں قید ہیں۔ ﴿مُّحِيطٌ﴾ کا مطلب ہے ایسا محاصرہ جس سے باہر نکلنے کا کوئی کائناتی راستہ (Escape Velocity) موجود نہیں۔ کافر اللہ کے نظام میں یوں گھرے ہوئے ہیں جیسے ٹیسٹ ٹیوب کے اندر موجود کوئی وائرس خود کو آزاد سمجھتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ لیبارٹری کی چار دیواری میں قید ہوتا ہے۔

اب سورت اپنے اختتامی، سب سے عظیم اور کائناتی عروج پر پہنچتی ہے۔ اصحابِ اخدود نے آگ کیوں جلائی تھی؟ مکہ کے کفار ظلم کیوں کر رہے تھے؟ تاکہ وہ اس ‘نظریے’ (قرآن/ایمان) کو زمین سے مٹا سکیں۔

اللہ ان کی اس سوچ کو کائناتی حقیقت سے ٹکرا کر چکنا چور کر دیتا ہے:
﴿بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ ۞ فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ﴾

(بلکہ یہ بڑی شان والا قرآن ہے، جو لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے)۔
یہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ ظالموں کا خیال تھا کہ جسمانی “ہارڈویئر” (مومنین کے جسم) کو جلا دینے سے اللہ کا بھیجا ہوا “سافٹ ویئر” (قرآن / نظریہ) بھی جل کر کرپٹ (Corrupt) ہو جائے گا۔ لیکن اللہ فرماتا ہے کہ تم زمین پر چاہے جتنا مرضی ہارڈویئر تباہ کر لو، یہ بڑی شان والا قرآن کسی زمین کی کتاب میں قید نہیں ہے۔ اس کلام کا اصل “سرور” (Server) زمین کی حدود، زمان و مکان (Space-time)، اور آگ و پانی سے ماورا ایک ایسے مقام پر ہے جسے “لوحِ محفوظ” کہتے ہیں۔ یہ کائنات کا وہ ہیک پروف، فائر پروف اور ابدی کلاؤڈ اسٹوریج (Ultimate Cloud Storage) ہے جہاں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تم جسموں کو مٹا سکتے ہو، نظریے کی ہوسٹنگ (Hosting) نہیں چھین سکتے۔

سورت کا معجزاتی اختتام اور سمٹاؤ (Ring Composition Completed)

آغاز: کائنات کی سب سے بلند اور ہیبت ناک ساخت… ﴿وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ﴾ (دیوہیکل کائناتی قلعوں والا آسمان)۔

درمیان: زمین کی حقیر سی، انسان کی کھودی ہوئی… ﴿الْأُخْدُودِ﴾ (خندق کی آگ) اور اس میں جسمانی فتح و شکست کا تصادم۔

اختتام: پھر سے کائنات کے سب سے بلند، ناقابلِ تسخیر، اور ابدی مقام پر جا کر کہانی سمٹتی ہے… ﴿لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ﴾ (جہاں نظریہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے)۔

اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کو بتا دیا کہ تمہاری تمام تاریخ اور تمہارا تمام غرور، آسمان کے برجوں اور لوحِ محفوظ کے درمیان محض ایک حقیر سی خندق میں جلنے والی چند لمحوں کی آگ ہے۔ اصل فتح صرف اس کی ہے جو زمین کی اس خندق میں اپنے جسم کو مٹا دے، تاکہ اس کی روح کائنات کی وسعتوں میں ﴿وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ﴾ کے سامنے ابدی طور پر محفوظ ہو جائے۔

آج کے جدید دور کے لیے اسباق (The Modern Mismatches)
1. ڈیجیٹل بے حسی اور تماشائیوں کا ہجوم (The Digital Voyeurism):

قرآن نے ظالموں کی جس خصلت کو نمایاں کیا، وہ ان کا بے حس ہو کر تماشا دیکھنا تھا (قُعُودٌ اور شُهُودٌ)۔ آج کے دور میں جب سڑک پر کسی کی گاڑی کو آگ لگتی ہے، کوئی ڈوب رہا ہوتا ہے، یا کسی پر ظلم ہو رہا ہوتا ہے، تو لوگ اس کی جان بچانے کے بجائے جیب سے موبائل فون نکال کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
آج کا اسمارٹ فون دراصل اسی “خندق کا نیا کنارہ” ہے۔ جو شخص کیمرہ آن کر کے کھڑا ہے، وہ جسمانی طور پر بے حس (قُعُودٌ) ہے اور اپنے کیمرے کے ذریعے محض ایک تماشائی (شُهُودٌ) بن رہا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ جس وقت وہ کسی کی موت کا تماشا ریکارڈ کر رہا ہے، عین اسی وقت آسمان والا اس بے حس تماشائی کو بھی ریکارڈ کر رہا ہے۔ انسان کی جان کو سستی تفریح یا سوشل میڈیا کے ویوز کے لیے استعمال کرنا، آج کے دور میں “اصحابِ اخدود” کی ہی ایک نفسیاتی شکل ہے۔
2. غزہ اور فلسطین کا المیہ (The Modern Ukhdood):
آج غزہ اور فلسطین مکمل طور پر ایک “اخدود” (خندق) کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ عالمی استعمار، اسرائیل اور ان کے حواری ان جدید خندقوں کے کنارے بیٹھے ہیں اور بمباری کے ذریعے معصوم بچوں اور عورتوں کے پرخچے اڑنے کا لائیو تماشا اپنی اسکرینوں پر دیکھ رہے ہیں۔
لیکن سورۃ البروج آج کے دور کے ان مظلوموں اور مجاہدین کو خوشخبری دیتی ہے کہ اگرچہ دنیاوی پیمانے پر ان کے جسم جل رہے ہیں اور عمارتیں گر رہی ہیں، لیکن انہوں نے طاغوت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ انہوں نے اپنے نظریے اور ایمان کا سودا نہیں کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فزکس اور مادے کی شکست دراصل نظریے کی سب سے بڑی فتح (الفوز الکبیر) بن جاتی ہے۔ ظالموں کا گمان ہے کہ وہ جیت رہے ہیں، مگر اللہ کی بے آواز لاٹھی اور کائناتی عذاب ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے، کیونکہ وہ ہر شے پر گواہ ہے۔