یہ وہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود
شیعوں کے ماتم کا وقت ختم
اب بریلویوں کا مجرا، ڈانس،قوالی، بھانگڑا، روڈشو، بینڈ باجا، بریانی ڈے، ڈانڈیا، اور طوائفوں کا ناچ گانا شروع🔎جشن میلاد النبی کی تلاش🔍
🔍 قرآن شریف سے (نہیں ملا)❌
🔍 سیرت پاک و حیاتِ مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم سے (نہیں ملا)❌
🔍 صحیح بخاری شریف سے (نہیں ملا)❌
🔍 صحیح مسلم شریف سے (نہیں ملا)❌
🔍 سنن ابن ماجہ شریف سے (نہیں ملا)❌
🔍 سنن ابو داؤد شریف سے (نہیں ملا)❌
🔍 سنن ترمذی شریف سے (نہیں ملا)❌
🔍 سنن نسائی شریف سے (نہیں ملا)❌
🔍 بقیہ تمام کتب احادیث شریفہ سے (نہیں ملا)❌
🔍 تمام کتب فقہ حنفی سے (نہیں ملا)❌
🔍 دورِ خلافت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (نہیں ملا)❌
🔍 دورِ خلافت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (نہیں ملا)❌
🔍 دورِ خلافت عثمان رضی اللہ عنہ (نہیں ملا)❌
🔍 دورِ خلافت علی رضی اللہ عنہ (نہیں ملا)❌
🔍 باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے (نہیں ملا)❌
🔍 تابعین و تبع تابعین سے (نہیں ملا)❌
🔍 امام ابو حنیفہ رح سے (نہیں ملا)❌
🔍 امام مالک رح سے (نہیں ملا)❌
🔍 امام شافعی رح سے (نہیں ملا)❌
🔍 امام احمد بن حنبل رح سے (نہیں ملا)❌
🔍 تمام محدثین کرام رح سے (نہیں ملا)❌
🔍 امتِ مسلمہ کے مستند علماء و فقہاء کرام سے (نہیں ملا)❌
🔍 کبار علماء احناف سے (نہیں ملا)❌
تو پھر یہ مروجہ جشن کی بدعت آئی کہاں سے؟🤔
عرض ہے کہ یہ بدعت خیر القرون کے بعد کے دور کی پیداوار ہے، جس کی ابتداء خصوصاً تاریک براعظم میں فاطمی شیعوں نے کی … اسی طرح یہ بدعت بلاد اربل کے صوفی المزاج (شیعی) بادشاہ ملک مظفر کا دیا ہوا ایسا تحفہ ہے کہ جس کا وجود قرآن و سنت اور خیر القرون کے سنہری ادوار میں کہیں نہیں ملتا ہے،
اور اس بات کا اقرار خود میلادی حضرات کے جید علماء بھی کر گئے ہیں ۔ مثلا۔👇
🔶 احمد یار خاں نعیمی بریلوی فرماتے ہیں۔!
میلاد شریف تینوں زمانوں میں کسی نے نہ کیا ، بعد میں ایجاد ہوا۔
📙 (بحوالہ “جاء الحق” : ١/٢٣٦)
🔶 اسی طرح غلام رسول سعیدی بریلوی فرماتے ہیں :
سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین نے محافلِ میلاد نہیں منعقد کیں، بجا ہے۔
📙 (بحوالہ “شرح صحیح مسلم” : ٣/١٧٩)
✍ عید میلاد مختلف بریلوی علماء کی نظر میں : 👇
🔶 مروجہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اصل نہیں ہے. اس کی ابتداء چھٹی صدی عیسوی میں ھوئی سب سے پہلے مصر میں نام نہاد شیعوں نے یہ جشن منایا-
نبی کے یوم پیدائش کو یوم میلاد قرار دینا عیسائیوں کا وطیرہ ہے۔ مروجہ عید میلادالنبی، عید میلاد عیسی کے مشابہ ھے اور بدعت سیئہ ہے، جبکہ کفار کی مشابہت کرنے اور ان کی رسومات پر عمل کرنے سے منع کیا گیا ہے، صحابہ کرام کے زمانے بلکہ پہلے تینوں زمانوں میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ۔ یہ بعد کی ایجاد ہے۔
📙 (بحوالہ “الخطط اللمقریزی” 490/1)
🔶 احمد یار خان نعیمی صاحب فرماتے ھیں کہ “میلاد شریف تینوں زمانوں میں نہ کسی نے کیا، بعد کی ایجاد ھے”
📙 (حوالہ “جاءالحق” 236/1)
🔶 جناب غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب یوں اعتراف حقیقت کرتے ھیں کہ “سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین نے میلاد کی محافل منعقد نہیں کیں”
📙 (شرح صحیح مسلم 179/3)
🔶 جناب عبدالسمیع رامپوری بریلوی صاحب لکھتے ھیں کہ “یہ سامان فرحت و سرور اور وہ بھی ایک مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس میں خاص وھی بارھواں دن معین کرنا بعد میں ھوا ھے ، یعنی چھٹی صدی کے آخر میں”
📙 (بحوالہ “انوار ساطعہ” 159)
🎚️ طاھر القادری صاحب اپنی کتاب “میلاد النبی” میں لکھتے ھیں کہ :
صحابہ 12 ربیع الاول کو میلاد نہیں مناتے تھے، بلکہ غمگین رھتے تھے، کیونکہ جب ان کی زندگی میں 12 ربیع الاول کا دن آتا تو وصال کے غم میں پیدائش کی خوشی دب جاتی۔ !
•••┈┈•••┈┈•••⊰⊙⊱•••┈┈•••┈┈•••۔
