
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم اپنی قوم کو راہ راست پر لانے اور ان کی تربیت کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اج کا نوجوان 10 لہذا ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتا تو اس لوگوں کو الگ سے پروگرام کرنا پڑے گا اور دینی تعلیم انہیں پھر سے سکھانا پڑے گا جب جا کر یہ لوگ سدھریں گے مسجدوں میں امام کچھ نصیحت نہیں کرتے اج کا بندہ سیل فون اور سوشل میڈیا کی وجہ سے برباد ہو چکا ہے اور جو ان پڑھ مسلمان ہیں یہ لوگ ڈی جے اور ناچ گانوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کو اللہ تعالی کا خوف ہے نہ ہی بڑے بزرگوں کا خوف کس لیے یہ اپنے ماں باپ سے ہی ڈرتے رہیں لڑکے تو لڑکے تو لڑکے لڑکیاں بھی اس طرح کے ہجوم میں شامل ہو کر ناچ گانا کرتی ہیں اور جلوس میں اتنے بینڈ باجے رکھے گئے ہیں جس کے بچتے ہی انسان کے جسم کے اندر شیطان گھس جاتا ہے اور رقص کرنے لگتا ہے اس سال تو ہم اس کو روکا نہیں سکتے انشاءاللہ تعالی ائندہ سال اگر ہم سب زندہ رہیں گے تو ان کو نصیحت کے لیے پروگرام بنائی ہے اور محبت سے ان کو سمجھائیں اور ان کے ماں باپ کو سمجھائیں قران و حدیث سے حوالہ دیتے ہوئے ان کو سدھارنے کی کوشش کریں گے انشاءاللہ تعالی اپ لوگوں نے جو بھی فتوی جاری کیا ہے قابل قدر ہے لیکن یہ ان پڑھ گوار نوجوانوں کے بیچ کچھ بھی ہونے والا نہیں یہ سب کے سب نشے میں دھت اور عیاشی کے لیے سب سے اگے وہ ہوتے ہیں جب قوم کے لیے کچھ مصیبت ا جائے تو وہاں سے بھاگ جاتے ہیں تو اس لیے ہم سب کو سدھارنے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے سدھارنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے اور ان کے ساتھ پیار و محبت سے سمجھا کر اس چیز کو ختم کرنے کی کوششیں ہونی چاہیے انشاءاللہ اللہ اگر چاہے تو اس سال بھی ہمارے بچے اور بچیوں میں تہذیب واپس ا جائے گی اگر نہیں تو انشاءاللہ سارے قوم کے نوجوانوں کو تعلیم و تربیت سے ان کو سمجھا جائے گا شکریہ اگر اس میں کسی کو اپنی کہی ہوئی چند باتوں پر ٹھیس پہنچی ہو اس لیے میں معذرت چاہتا ہوں دعا میں یاد رکھیے گا میلاد النبی مبارک
