خاندانی دستور

خاندانی دستور پر کتاب تحفہ میں دستیاب ہے۔
ہمارے چینل پر وڈیو کے ساتھ پہلے کمنٹ پر ہے
عمومی مسائل
‘ٹریفک قوانین کی طرح ایک خاندانی رولز بک یا دستور، بائی لاز یا گائیڈلائنز کی ضروت ہے۔
فیملی بزنس میٹنگز اور فیملی کونسل میٹنگز (کیوں؟ کون؟ کب؟ کہاں؟)
تنازعات کے حل کا عمل (خاندانی اختلاف)
انتظامی جانشینی کے مسائل
انتظامی جانشینی کے لیے ٹائم لائن
خاندان، مینیجرز، اور ملازمین کے ساتھ مواصلت
خاندان کے افراد کی ملازمت (معیار)
میاں بیوی اور سسرال کی ملازمت (معیار)
خاندان کے ارکان کے لیے معاوضے کا فلسفہ/ نقطہ نظر
انتظامی جانشینوں کو تیار کرنا/تربیت دینا
خاندان کے افراد کے لیے کارکردگی کا جائزہ
انتظامی جانشینی کے دوران اور اس کے بعد موجودہ مالکان کا کردار
قیادت (مثلاً شریک قیادت، انتظامی ٹیم)
سینئر مینجمنٹ میں غیر خاندانی ملازمین کا کردار
غیر حاضری کی چھٹی اور گھر والوں کی طرف سے سبت تنازعات کے حل کا عمل (فعال خاندان کے افراد کے درمیان انتظامی جانشینی کے مسائل کو حل کرنا) ملکیت
جانشینی کے مسائل
ملکیت کی جانشینی کے لیے ٹائم لائن
خاندان، مینیجرز، اور ملازمین سے مواصلت
حصص کا مالک کون ہو سکتا ہے (فعال، غیر فعال، براہ راست، بالواسطہ خاندان کے افراد) اور کیوں؟
شیئرز کیسے حاصل کیے جائیں گے؟ (طریقہ اور فنڈنگ)
کیا ملکیت کی منتقلی بتدریج/جزوی ہوگی یا ایک ساتھ ہوگی؟
کیا ملکیت کی جانشینی انتظامیہ کی جانشینی کی حمایت کرتی ہے؟
ملکیت کی جانشینی کے دوران اور بعد میں موجودہ مالکان کا کردار
مالکان کے لیے معاوضہ (تنخواہ، بونس، سالانہ تقسیم)
باہر نکلنے کی حکمت عملی (منصفانہ اور مساوی)
اقلیتی شیئر ہولڈرز (توقعات اور ان کا انتظام کیسے کریں)
ملکیت میں غیر خاندانی ملازمین کا کردار
مستقبل کے مالکان کے لیے شادی اور قبل از شادی کے معاہدے
خاندان کے افراد کو قرض (شرائط و ضوابط)
تعلقات عامہ (خاندانی کاروبار کے لیے کون بولتا ہے؟)
انسان دوستی اور کمیونٹی کی سرگرمیاں (کون سی؟ کتنی؟)
خاندان کے افراد کے لیے مفادات کا تصادم (ہدایات)
حصص یافتگان کا معاہدہ جو جانشینی کے مقاصد کی عکاسی/سپورٹ کرتا ہے۔
تنازعات کے حل کا عمل (خاندان کے افراد کے درمیان ملکیت کی جانشینی کے مسائل کو حل کرنا)
ہم نے مندرجہ بالا ۳۳ عنوانات میں سے کئی عنوانات کو دستوری الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے مگر چند معاملات اس قسم کے ہیں کہ آپ کو باہمی مشاورت، علماء اور فقہا سے بات چیت اور قانونی اور ٹیکس کے ماہرین سے سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔
اب آئیے ہمارے ملک اور دیگر مسلمان ممالک کے عمومی کاروباری مسائل کی طرف۔
رسمی معاہدوں کے بغیر خاندانی کاروبار میں بہن بھائیوں، بیویوں اور بچوں کو شامل کرنا کئی مسائل کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اسلامی قانون (شریعت) کے تناظر میں۔ چند اہم مسائل اور ممکنہ حل یہ ہیں:
مسائل:
غیر متعینہ کردار اور ذمہ داریاں: رسمی معاہدوں کے بغیر، کاروبار میں کردار اور ذمہ داریاں غیر واضح ہو سکتی ہیں، جو تنازعات اور ناکارہیوں کا باعث بنتی ہیں۔
مالی حقوق اور معاوضہ: واضح معاہدوں کے بغیر، خاندان کے اراکین کے لیے منصفانہ معاوضے کا تعین متنازعہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کاروبار میں شراکت مختلف ہو۔
وراثت اور ملکیت کے حقوق: رسمی دستاویزات کی غیر موجودگی میں، یہ طے کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ اسلامی وراثت کے قوانین کے مطابق کاروباری اثاثوں کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔
فیصلہ سازی کی اتھارٹی: باضابطہ معاہدوں کے بغیر، فیصلہ سازی صوابدیدی بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اختلافات اور کاروباری کارروائیوں میں ممکنہ تعطل پیدا ہوتا ہے۔
جانشینی کی منصوبہ بندی: واضح معاہدوں کے بغیر، جانشینی کی منصوبہ بندی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے، جو ممکنہ طور پر کاروبار کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
سرمایہ کاری اور توسیع کے فیصلے: اہم کاروباری فیصلے کرنا اس وقت پیچیدہ ہو سکتا ہے جب خاندان کے متعدد افراد غیر رسمی طور پر شامل ہوں۔
غیر شرکت کرنے والے خاندان کے اراکین کے حقوق کا تحفظ: خاندان کے اراکین جو کاروبار میں فعال طور پر شامل نہیں ہیں، وہ اپنے وراثت اور مالی حقوق کے لحاظ سے غیر منصفانہ طور پر پسماندہ ہو سکتے ہیں۔
مجوزہ حل:
کرداروں کو باضابطہ بنانا: اسلامی اصولوں کے مطابق کرداروں اور ذمہ داریوں کو باضابطہ بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، اس میں شامل خاندان کے تمام افراد کے لیے انصاف اور وضاحت کو یقینی بنایا جائے۔
واضح مالیاتی معاہدوں: شریعت کے اصولوں کے مطابق تنخواہوں اور منافع کی تقسیم سمیت واضح مالی انتظامات کا قیام، تنازعات کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔
دستاویزات اور گواہ: دستاویزی معاہدوں کو برقرار رکھنا اور گواہ رکھنا (جیسا کہ اسلامی لین دین میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے) وضاحت فراہم کر سکتی ہے اور مستقبل کے تنازعات کو روک سکتی ہے۔
اسلامی وراثت کے قوانین کو شامل کرنا: کاروباری معاہدوں کو اسلامی وراثت کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ حصص اور ملکیت کے حقوق شریعت کے مطابق تقسیم کیے جائیں۔
ثالثی اور ثالثی: تنازعات کی صورت میں، شریعت کے مطابق ثالثی یا ثالثی کے عمل سے خاندانی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
شریعت کے مطابق جانشینی کی منصوبہ بندی: اسلامی اصولوں کے مطابق جانشینی کا منصوبہ تیار کرنا کاروبار کے مستقبل کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کر سکتا ہے۔
خاندان کے تمام افراد کے ساتھ مساوی سلوک: اس بات کو یقینی بنانا کہ خاندان کے تمام افراد خواہ کاروبار میں سرگرم ہوں یا نہ ہوں، اسلامی تعلیمات کے مطابق انصاف کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔
شرعی ماہرین کے ساتھ مشاورت: اسلامی اسکالرز یا شرعی ماہرین کو شامل کرنے سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ تمام معاہدے اور طرز عمل اسلامی قانون کے مطابق ہوں۔
باقاعدہ خاندانی ملاقاتیں: کاروباری مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے باقاعدہ فیملی میٹنگز کا انعقاد شفافیت اور اجتماعی فیصلہ سازی کو فروغ دے سکتا ہے۔
خاندان کے افراد کو شریعت کے بارے میں تعلیم دینا: کاروبار سے وابستہ تمام خاندان کے افراد کو شرعی اصولوں کے بارے میں آگاہ کرنا اسلامی قانون کے مطابق باخبر فیصلے کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
مسائل کے حل کی ان تجاویز کو نافذ کرنے کے لیے اسلامی اصولوں کو برقرار رکھنے، خاندانی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے، اور کاروبار کی عملداری اور کامیابی کو یقینی بنانے کے درمیان ایک نازک توازن کی ضرورت ہے۔ رسمی معاہدے اور واضح مواصلت، شریعہ کی بنیاد پر، کاروبار میں خاندانی محرکات کو منظم کرنے کی کلید ہیں۔
اس کتاب کے ذریعے ان مسائل پر گفتگو کرنے، حل تلاش کرنے اور مسودہ بنانے کے لئے ایک دستوری خاکہ دیا گیا ہے، یہ آپ کے لئے زیرو ڈرافٹ ہے، اس پر گفتگو کریں اور اللہ نے آپ کو کاروبار کے ذریعے جو دولت، عزت ، برکت اور شہرت دی ہے اس امانت کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کے اولاد اور آپ کے متعلقین کو آپ کے بعد عدالتوں اور مصالحتی کمیٹیوں کے چکر لگانے نہ پڑیں بلکہ وہ آپ کی قبر پر آپ کو دعا دے رہے ہوں
ان تمام معاملات کے ساتھ اس بات کا خیال رکھیں کہ مشترکہ خاندانی کاروبار میں چند چیزیں بہت اہم ہیں۔
بات چیت میں نرمی
غصہ کو ضبط کرنا، احترام کرنا اور غصہ آجائے تو فوری طور پر معافی مانگنا
دوسروں کی رائے کو سننا اور اپنی رائے کی قربانی دینا۔
معاملات میں انصاف، ایمانداری اور امانت داری
واضح اور شفاف کاروباری معاملات
نئی نسل کو بچہ نہ کہنا بہت اہم ہے، وہ آج کے دور میں کئی چیزوں میں ہم سے بہتر ہیں، وہ ہماری دولت کے وارث ہیں۔
باہمی کاروباری اختلافات کو برسر عام ظاہر نہ کریں
کوئی ایک فرد آپ سے کسی کی شکایت کرے تو جس کی شکایت کی گئی ہے اسے ، شکایت کرنے والے کے سامنے بلا کر بات رکھ دیں اور دونوں کو کہنے کا موقع دیں اور پھر فیصلہ کریں۔ یہ خاندان کی مضبوطی کے لئے اہم ہے۔
(ان مسائل کے حل اور تربیت کے لئے ہماری یہ دوکتابیں رہنمائی کرسکتی ہیں۔
شاہراہ زندگی پر کامیابی کا سفر اور شاہراہ عافیت ۔جو کہ نصیحت اور وصیت نامے ہیں)
مجھے امید ہے کہ جس انداز سے ۱۹۸۸ میں تنظیم وقت کے حوالے میرے مضامین سے اردو کمیونتی کو فائدہ ہو ا اور وقت کا اثاثہ جو غریب اور امیر کو یکساں میسر ہے اس سے لاکھوں لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور رب کریم نے ان مضامین کے مجموعہ شاہراہ زندگی پر کامیابی کا سفر کو جو ملکی اور بین الاقوامی پذیرائی دی اسی انداز سے اس مضمون کو جسے کتابی صورت میں آپ کو پیش کیا جارہا ہے، اللہ کریم امت مسلمہ کو اپنی دولت اور مال کو حفاظت کرنے، حق کو حقداروں تک پہنچانے اور دین، دنیا اور آخرت میں عافیت میں مدد گار بننے کا ذریعہ بنائے ۔آمین
واضح رہے کہ اس کتاب کا مرتب، کوئی قانون دان، فقیہ یا عالم دین نہیں ہے۔ اس کا تعلق اکاؤنٹنگ پرفیشن سے ہے، مگر اسے بہت سے مواقع ملے ہیں کہ وہ اس موضوع پر کچھ کام کرسکے۔ مرتب نے اپنی حد تک ایک کچا راستہ بنادیا ہے، اہل علم، شریعہ ایڈوائزر، علماء کرام اپنے اپنے طور پر اس فیلڈ میں رہنمائی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا اور سعودی عرب کے ڈیجیتل لٹریچر سے فاہدہ اٹھائیں، مختلف دارالعلوم کی ویب سایٹ آپ کی رہنمائی کریں گی۔ علماء کرام، دینی اداروں کے سربراہ، مشائخ کرام سے گزارش ہے کہ وہ اپنی تقاریر اور جمعہ کے خطبات میں مسلم معاشرہ کے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں جو وراثت کے معاملے میں ناانصافی کرکے کیا جاتا ہے۔
اللہ کو مان کر ہم مسلمان بنے ہیں، اللہ کی مان کر مؤمن بننے کی کوشش کریں، اللہ کو منواکر متقی بننے کی کوشش کریں، حق تلفی،ناانصافی اور ظلم سے بچنے کی کوشش کریں، کاروبار میں جھوٹ اور بددیانتی کے عناصر کو ختم کریں۔ یقین کریں، ان برائیوں ، چالبازیوں اور مکاریوں کے ساتھ دولت میں کچھ عرصہ کے لئے تو اضافہ ہوسکتا ہے، مگر عزت، لذت، برکت اور سکون سے محروم رہیں گے اور آئندہ ہونےوالے واقعات آپ کو اس شعر کی صورت میں شرمندہ کریں گے۔
عدل انصاف محض حشر پہ موقوف نہیں۔۔۔۔زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
اللہ کریم
ہم نے جو کچھ مانگا ہے اسے قبول فرمائے،
جو کچھ مانگنا چاہتے ہیں اور زبان پر نہیں آرہاہے، وہ بھی عطا فرمائے،
جو کچھ مانگنا چاہیے اور نہیں مانگ رہے، وہ بھی عطا فرمائے،
جو کچھ وہ دینا چاہ رہے مگر ہم نہیں مانگ رہے ہیں، وہ بھی عطا فرمائے
رب کریم، ہم اپنے ظرف کے مطابق مانگ رہے ہیں، آپ ہمیں اپنی شان کے مطابق عطا فرمائیں۔ ہم آپ سے ہر اس خیر کے طلب گار ہیں جسےآپ کے رسول محمد ﷺ نے آپ سے طلب کیا اور آپ کی پناہ میں آتے ہیں ہر اس شر سے جس سے آپ کے رسول محمدﷺ نے آپ کی پناہ طلب کی۔
ربی انی لما انزلت الی من خیر فقیر۔۔اے رب آپ ہمیں جو کچھ بھی خیر عطا فرمائیں گے، ہم آپ کے محتاج اور فقیر ہیں۔
بشیر جمعہ
کینیڈا۔۱۵
