انسان کا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن کوئی اور نہیں، بلکہ وہ “نفس” ہے جو اس کے اپنے دو پہلوؤں کے درمیان موجود ہے۔

میں اسلامی نفسیات کے متعلق ایک قسط وار سلسلہ شروع کر رہا اس سلسلے کی پہلی قسط نفس کی تعریف سے شروع کی گئی ہے۔ اگلی قسط
میں ہم نفس غصہ دل عقل کا ریلیشن دیکھیں گے اور اسے بیلنس کرنے کا طریقہ
قسط نمبر 1 نفس
انسان کا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن کوئی اور نہیں، بلکہ وہ “نفس” ہے جو اس کے اپنے دو پہلوؤں کے درمیان موجود ہے۔
نفس کی پہچان معرفتِ الٰہی اور روحانی کامیابی کا پہلا زینہ قرار ہے۔
نفس کیا ہے؟
“نفس” انسان کے اندر موجود ان تمام مذموم صفات، شہوات، غصے اور حیوانی جبلتوں کے مجموعے کا نام ہے جو اسے اللہ کی نافرمانی کی طرف کھینچتے ہیں۔ یہ وہ اندھی طاقت ہے جو لذتوں کی طلب گار رہتی ہے اور اگر اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو انسان کو جانوروں سے بھی نچلے درجے پر گرا دیتی ہے۔
نفس کی فطرت اور اس کے درجات
قرآن کریم اور علمائے کرام کی تشریح کے مطابق، تربیت اور روحانی حالت کے اعتبار سے نفس کے تین بنیادی درجات ہیں:
نفسِ امّارہ (حکم دینے والا نفس): یہ انسان کی وہ ابتدائی حالت ہے جس میں نفس بے لگام ہوتا ہے اور کثرت سے برائی کا حکم دیتا ہے۔ یہ انسان کو شہوات، غصے اور تکبر یعنی ایگو “میں ہی سب کچھ ہوں ” کی طرف دھکیلتا ہے اور گناہ پر کوئی ندامت محسوس نہیں کرتا۔
نفسِ لوّامہ (ملامت کرنے والا نفس):جب انسان کے اندر ایمانی بیداری پیدا ہوتی ہے تو نفس ترقی کر کے اس مقام پر آتا ہے۔ یہ نفس گناہ کے بعد انسان کو کچوکے لگاتا ہے اور ملامت کرتا ہے۔ یہ توبہ کی طرف پہلا قدم ہے، جہاں نیکی اور بدی کی کشمکش جاری رہتی ہے۔
نفسِ مطمئنہ (سکون پانے والا نفس): جب نفس اللہ کی رضا پر مکمل راضی ہو جاتا ہے اور گناہوں کی کشش ختم ہو جاتی ہے، تو اسے نفسِ مطمئنہ کہتے ہیں۔ یہ نفس سراپا نور اور اطاعت بن چکا ہوتا ہے۔
نفس انسان کو کیسے دھوکہ دیتا ہے؟
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ نفس شیطان سے بھی زیادہ مکار ہے، کیونکہ شیطان باہر سے وسوسہ ڈالتا ہے جبکہ نفس اندر کا بھیدی ہے۔ اس کے دھوکے اس قدر باریک ہوتے ہیں کہ بسا اوقات بڑے بڑے عابد بھی ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نفس کے چند مشہور فریب درج ذیل ہیں:
نیکی کے لباس میں بدی کی ترغیب: نفس ہمیشہ برائی کو براہِ راست پیش نہیں کرتا، بلکہ اسے دین اور نیکی کا لبادہ اوڑھا دیتا ہے۔ مثلاً، علمِ دین سیکھنے کے نام پر دل میں بحث و مباحثہ کا شوق اور تکبر پیدا کرنا، یا رات کی عبادت میں ریاکاری (دکھاوا) شامل کر کے اسے باطل کر دینا۔ یا نامحرم سے اکیلے میں رات کو باتیں کرنا اور خود کو دھوکا دینا میں تو اسے دین کی باتیں سیکھا رہا یا سیکھ رہا ہوں میں تو بہن یا بھائی سمجھ رہا/رہی ہوں لیکن اندر ہی اندر اس سے لطف اندوز ہونا۔
نفس کا سب سے خطرناک دھوکہ یہ ہے کہ وہ گناہ کو کوئی “خوبصورت نام” دے دیتا ہے۔ مثلاً:
سود کو “منافع” یا “کاروباری ضرورت” کہہ کر پیش کرنا۔
تکبر کو “خودداری” کا نام دینا۔
ظلم کو “اصلاح” یا “قومی مفاد” کا لبادہ اڑھا دینا۔
لمبی امیدیں اور تاخیر: نفس انسان کو یقین دلاتا ہے کہ ابھی اس کی عمر بہت طویل ہے، جوانی میں مزے کر لو، بڑھاپے میں سچی توبہ کر لینا۔ یوں وہ انسان کو کل کے جھوٹے دلاسے دے کر “آج” کی عبادت اور توبہ سے غافل کر دیتا ہے۔
گناہوں کو چھوٹا کر کے دکھانا: نفس بار بار یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ یہ تو نہایت چھوٹا اور معمولی سا گناہ ہے، اور اللہ بہت غفور و رحیم ہے۔ یہ سوچ خدا کی رحمت کا غلط استعمال سکھاتی ہے اور انسان کو مسلسل نافرمانی پر دلیر کر دیتی ہے۔
چھوٹی نیکی میں الجھا کر اعلیٰ نیکی سے محروم کرنا: جب نفس دیکھتا ہے کہ انسان گناہ کی طرف نہیں آ رہا، تو وہ اسے کسی کم درجے کی نفلی نیکی میں اس قدر مگن کر دیتا ہے کہ اس کے فرائض اور حقوق العباد ضائع ہونے لگتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک شخص مسجد میں ایک کروڑ کا فانوس لگوا دیتا ہے لیکن غزہ کے مسلمانوں کو وہ ایک کروڑ نہیں بھیجتا۔
اسی طرح نماز چھوڑ کر نفلی کام کرنے لگ جاتا ہے اور نماز میں تاخیر کردیتا ہے
یعنی اسے دین میں ترجیحات کا علم نہیں ہوتا اور یہ نفس اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے
وکیل کی طرح کام کرنا: انسان کا نفس اس سے ایک مؤکل (Client) کی طرح کام لیتا ہے جس کی فیس محض “لذتِ نفس” ہوتی ہے۔ یہ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا دفاع کرے اور اپنی تسکین کی خاطر دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لیے لاجک لڑائے۔
جیسے جب انسان کوئی غلط کام کرنا چاہتا ہے، یا جب حق اور سچائی سامنے آتی ہے تو انسان کا نفس اسے تسلیم کرنے سے روکنے کے لیے “حیلوں اور تاویلوں کا ایک لشکر” تیار کر کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ انسان کے دماغ کو استعمال کر کے ایسی خوشنما نقاب (دلائل) تیار کرتا ہے کہ انسان خود کو مکمل بے گناہ اور سچا سمجھنے لگتا ہے۔ نفس اسے ہزار علمی اور عقلی دلیلیں فراہم کر دیتا ہے تاکہ انسان کا ضمیر اسے ملامت نہ کرے۔ یہ انسان کو یقین دلا دیتا ہے کہ “حالات ہی ایسے تھے” یا “میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا”۔
نفس کا علاج اور اس کی اصلاح
نفس کا علاج اسے ہلاک کرنا نہیں، بلکہ اسے لگام دے کر اس کی تربیت (تزکیہ) کرنا ہے۔ امام غزالیؒ نے اس کے لیے چار بنیادی اصول مقرر کیے ہیں:
مشارطہ (شرط لگانا): دن کے آغاز پر اپنے نفس سے پختہ شرط لگانا کہ آج کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا ہے۔
مراقبہ (نگرانی کرنا): سارا دن اپنے دل اور خیالات کی چوکیداری کرنا اور یہ دھیان رکھنا کہ اللہ مجھے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔
محاسبہ (حساب لینا): رات کو سونے سے پہلے ایک تاجر کی طرح اپنے دن بھر کے اعمال کا حساب لینا کہ آج کیا کھویا اور کیا پایا۔
معاقبہ (سزا دینا): اگر محاسبے کے دوران معلوم ہو کہ نفس نے نافرمانی کی ہے، تو اسے فوراً کوئی جائز جسمانی یا روحانی تکلیف (جیسے نفلی روزہ، صدقہ یا رات کا قیام) دے کر سزا دینا تاکہ وہ آئندہ گناہ سے خوف کھائے۔
یاد رکھیں کہ نفس ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے۔ اگر ہم نے مجاہدے کی لگام سے اسے قابو کر لیا تو یہ ہمیں منزلِ مقصود (اللہ کی رضا) تک پہنچا دے گا، لیکن اگر ہم نے اسے کھلی چھوٹ دے دی، تو یہ ہمیں گرا کر ہلاک کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کے شرور اور اس کے پوشیدہ فریب سے محفوظ رکھے۔آمیں
