
مولانا مودودی سے ایک سوال اور انکا شاندار جواب
سوال: کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ کسی صحابی کی ڈاڑھی ایک مشت سے کم تھی؟
جواب
اسماء الرجال اور سیر کی کتابوں میں تلاش کرنے سے مجھے بجز دو تین صحابیوں کے کسی کی ڈاڑھی کی مقدار نہیں معلوم ہو سکی ہے۔
صحابہؓ کے حالات پر صفحے کے صفحے لکھے گئے ہیں ، مگر ان کے متعلق یہ نہیں لکھا گیا کہ ان کی ڈاڑھیاں کتنی تھی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سلف میں یہ مقدارکامسئلہ کتنا غیر اہم اور ناقابل توجہ تھا۔
حالاں کہ متأخرین (بعد والوں ) میں جس شدت سے اس پرزور دیا جاتا ہے، اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید مومن کی سیرت وکردار میں پہلی چیز، جس کی جستجو ہونی چاہیے، وہ یہی ہے کہ اس کی ڈاڑھی کا طول کتنا ہے۔
(ترجمان القرآن ،مارچ،جون ۱۹۴۶ء)
See less
Comments
غیر ضروری پوسٹ۔۔۔۔کیا صرف یہی موضوع تمہیں آج کے زمانے میں ملا تھا۔۔۔سیدھی سی بات ہے احادیثِ مبارکہ میں آں حضرت صلی اللہ علیہ و…
See more
- 8w
- Reply
- Edited
سید ابوالاعلی مودودی رحمه الله 20 ویں صدی کے سب سے بااثر اسلامی مفکرین میں سے ایک کے طور پر کھڑے ہیں، جنہیں سیاسی ہلچل، نوآباد…
See more
- 8w
- Reply
اس وقت شاید یہ موضوع اس لئے زیر بحث نہ ہو کہ معاشرے میں داڑھی رکھنے کا عام چلن ہو یہود نصارٰی اور شاید مشرکین سب داڑھی رکھتے ہ…
See more
- 8w
- Reply
کیا مشت سے کم مقدار والی داڑھی رکھنے والے اپنا عمل ایک صحابی سے بھی ثابت کر سکتے ہیں؟
مشت والوں کے پاس تو دلیل صحابی ہے
- 8w
- Reply
اگر اس مسئلہ کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ کیا اس دور میں داڑھی کاٹنے کا رواج تھا؟ اگر رواج تھا تو اس وقت اس کے ے کی مقدار کیا ہوتی تھی؟ اور اگر داڑھی کاٹنے کا رواج ہی نہ تھا اور یہ ایک معیوب فعل سمجھا جاتا تھا تو پھر اس کا ذکر ملنا بھی مشکل ہی ہو گا- اس لیے نہیں کہ یہ مسئلہ اہم نہیں تھا بلکہ اس لیے کہاس فعل کا رواج ہی نہیں تھا-
- 8w
- Reply
ہلاکو خان نے جب بغداد پے حملہ کیا تھا اس وقت شیر کے چوکوں چوراہوں میں مناظرے چل رہے تھے۔
سوئی کی نوک پر فرشتہ بیٹھ سکتا ہے یا نہیں۔
مسواک کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے۔
آج کے دور میں بھی ہم ان ابحاث میں الجھے ہوئے ہیں کہ داڑھی کی لمبائی کتنی ہو۔حد ہو گئی ہے بے وقوفی کی
- 7w
- Reply
