Civilization War and the Rule of Ideas=تہذیبی جنگ اور خیالات کی حکمرانی

تہذیبی جنگ اور خیالات کی حکمرانی
تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ دنیا پر اصل حکمرانی تلواروں اور توپوں کی نہیں، بلکہ افکار اور نظریات کی ہوتی ہے۔ تہذیبوں کی اس کشمکش میں وہی قوم تخت نشین ہوتی ہے جو سوچنے، سمجھنے اور علم تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ظاہری اور فوجی طاقت کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے، لیکن ایک روشن دماغ سے نکلنے والے خیالات کی طاقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور دیرپا ہوتی ہے جو پوری دنیا کا رخ موڑ سکتی ہے۔
علم کا سب سے بڑا فریب
جب علم اتنی بڑی طاقت ہے، تو کیا دنیا میں موجود ہر علم سچا اور غیر جانبدار ہے؟ یہ اس جدید دور کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی علم غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ علم کا خام مال اور حقائق تو سب کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن اسے دیکھنے کا زاویہ اور نظریہ ہر قوم کا اپنا ہوتا ہے۔ اسے ایک سادہ سی مثال سے سمجھیے: جب ایک مغربی اور مادہ پرست دماغ کسی دوا پر تحقیق کرتا ہے، تو اسے اس میں صرف کیمیکل کا کمال نظر آتا ہے۔ لیکن جب ایک مسلمان دماغ اسی دوا کو دیکھتا ہے، تو وہ کیمیکل کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ کی عطا کردہ شفا اور اس کی قدرت کا مشاہدہ بھی کرتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج مغرب نے دنیا کے تمام علوم کو اپنے اسی لادینی نظریے کی عینک پہنا کر لکھ دیا ہے۔
ہمارے زوال اور فکری غلامی کی جڑ
اس لادینی اور مغربی علم کو من و عن قبول کرنے کا نتیجہ ہمارے لیے نہایت بھیانک نکلا ہے۔ ہم اندھی تقلید اور فکری غلامی کے ایک ایسے اندھے گڑھے میں گرتے چلے گئے ہیں جہاں ہماری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ کائنات کا اصول ہے کہ جو قوم دوسروں کا چبایا ہوا نوالہ کھاتی ہے اور ان کی لکھی ہوئی کتابوں کو بغیر سوچے سمجھے رٹ لیتی ہے، وہ اپنی شناخت ہمیشہ کے لیے کھو دیتی ہے۔ یہی وہ فکری زہر ہے جس کی وجہ سے ہماری آج کی نئی نسل کے ذہنوں میں اسلام سے دوری اور بیگانگی پیدا ہو رہی ہے۔
غلامی سے آزادی کا نیا راستہ
اس گہرے گڑھے سے نکلنے اور اپنی کھوئی ہوئی میراث واپس پانے کے لیے ہمیں ایک نیا راستہ چننا ہوگا۔ یہ راستہ تین قدموں یا تین فکری سیڑھیوں پر مشتمل ہے جو ہمیں پستی سے عروج کی طرف لے جائیں گی:
پہلی سیڑھی (باطل کو توڑنا): ہمارا پہلا قدم دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ ہونا چاہیے۔ ہمیں سب سے پہلے مغربی فلسفے اور ان کے مرتب کردہ علوم کے کھوکھلے پن کو عقلی اور منطقی دلائل سے توڑ کر ان کی خامیاں دنیا کے سامنے لانی ہوں گی۔
دوسری سیڑھی (نیا نظام بنانا): پرانی اور بوسیدہ عمارت گرے گی تو نئی بنے گی۔ باطل کو توڑنے کے بعد ہمیں کائنات کے سب سے سچے نظریے یعنی “اسلام” کی بنیاد پر تمام جدید علوم کو نئے سرے سے جوڑ کر ان کی تشکیل نو کرنی ہوگی۔
تیسری سیڑھی (اپنا نصاب): اس فکری آزادی کو عملی شکل دینے کے لیے ہمیں اپنی کتابیں، اپنی تحقیق اور اپنا نصاب سامنے لانا ہوگا، جو ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو غلامی کی زنجیروں سے مکمل طور پر آزاد کر سکے۔
حتمی منزل
جب علم کو اس کی سچی اور خالص شکل میں حاصل کیا جائے گا، تب ایک ابھرتی ہوئی صبح طلوع ہوگی۔ اس روشن صبح میں ہمارے نوجوان اس عظیم حقیقت کو پا لیں گے کہ علم اور ڈگریاں محض پیٹ پالنے یا نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں۔ بلکہ علم تو دراصل دنیا کی امامت، انسانیت کی رہنمائی اور کائنات پر غلبہ پانے کا وہ طاقتور ترین ہتھیار ہے، جو اندھیروں کو مٹا کر حق کی روشنی پھیلاتا ہے۔