
آج کل بین الاقوامی سیاست کے منظر نامے پر جب سے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے یا جنگ بندی کی خبریں گردش کرنا شروع ہوئی ہیں، تو ہمارا سوشل میڈیا حسبِ معمول دو انتہائی جذباتی، غیر متوازن اور غیر حقیقت پسندانہ بیانیوں (Narratives) کی زد میں آگیا ہے۔
تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی بساط پر نہ تو کوئی ایک دن میں مکمل ہتھیار ڈالتا ہے اور نہ ہی کوئی راتوں رات فاتحِ عالم بن جاتا ہے۔ مگر سکرینوں کے پیچھے بیٹھی عوام جذبات کی رو میں بہہ کر حقائق کو مسخ کر دیتی ہے۔
آئیے اس غبار کو ہٹا کر تاریخ، بین الاقوامی تعلقات اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس صورتحال کا ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ کا شعور بیدار ہو سکے۔
سوشل میڈیا کے دو انتہا پسند بیانیے (The Illusion)
اس وقت سوشل میڈیا پر دو انتہاؤں پر مبنی نعرے لگائے جا رہے ہیں:
پہلا بیانیہ (مرعوبیت اور احساسِ کمتری کا شکار طبقہ):
اس طبقے کا کہنا ہے کہ “امریکہ اور اسرائیل نے ایک بار پھر امتِ مسلمہ اور ایران کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ ایران مکمل طور پر جھک گیا ہے اور اس نے اپنی بقا کی خاطر حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کا سودا کر لیا ہے۔ ان کے نزدیک نیوکلیئر پروگرام رول بیک ہو گیا ہے اور یہ امریکہ و اسرائیل کی ایسی شاندار فتح ہے کہ ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ وہ طنزیہ کہتے ہیں کہ یہ تو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ایران پر ترس کھا کر اسے چھوڑ دیا، وگرنہ وہ ایرانیوں کی قیمہ بوٹی بنا دیتے۔”
دوسرا بیانیہ (جذباتی اور رومانوی طبقہ):
اس کے برعکس دوسرا طبقہ زمینی حقائق سے یکسر کٹ کر دعویٰ کرتا ہے کہ “ایران نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ نے ہار مان لی ہے اور ایران نے اپنی تمام شرائط منوا لی ہیں۔ یہ طاغوت پر عالمِ اسلام یا ‘محورِ مزاحمت’ کی عظیم ترین اور فیصلہ کن فتح ہے۔”
حقائق کیا ہیں؟ پروپیگنڈا اور حقیقت کے درمیان لکیر
یہ دونوں بیانیے زمینی حقائق سے کوسوں دور، محض پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ ہیں۔ آئیے ان حقائق کو حقیقت پسندانہ (Realistic) انداز میں پرکھتے ہیں:
1. کیا واقعی ایران نے حماس اور حزب اللہ کی حمایت چھوڑ دی؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کہ “ایران نے حماس اور حزب اللہ کی حمایت چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی ہے” کو حتمی سچ مان لینا سیاسی ناسمجھی ہے۔ معاہدے کی میز پر دی گئی یقین دہانیاں اور سفارتی بیانات اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کی “محورِ مزاحمت” (Axis of Resistance) کی پالیسی کسی ایک لیڈر کے غصے یا کاغذ کے ایک ٹکڑے کی محتاج نہیں۔ یہ دہائیوں کی اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔
کاغذ پر دستخط کرنے سے خطے میں موجود ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو ہوا میں غائب نہیں ہو جاتے۔ حماس اور حزب اللہ کی عسکری اور نظریاتی جڑیں ان کے اپنے معاشروں، ان کی زمین اور ان کے عوام میں پیوست ہیں۔ ایران نے حکمتِ عملی (Tactics) ضرور بدلی ہوگی، اپنی بقا کے لیے وقتی پسپائی (Tactical Retreat) بھی اختیار کی ہوگی، لیکن کوئی بھی ریاست اپنا اسٹریٹجک اثاثہ مکمل طور پر کبھی ختم نہیں کرتی۔ یہ محض جنگ کی شکل بدلنے کا نام ہے۔
2. طاغوتی طاقتوں (امریکہ اور اسرائیل) نے کیا حاصل کیا؟
وقتی کامیابیاں: بے شک انہوں نے شدید بمباری سے مزاحمتی تنظیموں کی اعلیٰ قیادت کو شہید کیا۔ ایران کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا، اس کی معیشت کا گلا گھونٹ کر اسے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا اور خطے میں اپنے خلاف ہونے والے فوری حملوں کو روکا تاکہ اسرائیل کو ایک بڑا سانس لینے کا موقع ملے۔
ناکامی: اسرائیل آج بھی 100 فیصد محفوظ نہیں ہے۔ سات محاذوں پر مسلسل الجھنے اور اربوں ڈالر پھونکنے کے باوجود، اسے یہ معاہدہ اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس کا معاشرہ، معیشت اور فوج مزید طویل جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مطلق فتح نہیں، بلکہ ان کی تھکاوٹ اور مجبوری کا بھی نتیجہ ہے۔
3. ایران کا زاویہ: حاصلات اور نقصانات
حاصلات: ایران نے براہِ راست اور تباہ کن اسرائیلی/امریکی حملوں اور شدید دباؤ کے باوجود مزاحمت دکھائی۔ اس نے ثابت کیا کہ وہ خطے کی ایک ایسی طاقت ہے جسے نظر انداز کر کے مشرق وسطیٰ کا کوئی نقشہ نہیں بنایا جا سکتا۔
نقصان: اسے شدید جانی و مالی نقصان، معاشی بدحالی، اندرونی عدم استحکام کا خطرہ، اور اپنی پراکسیز کی صفوں میں ہونے والے بے پناہ جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسے بقا کے لیے ایک کڑوا گھونٹ پینا پڑا ہے۔
4. نیوکلیئر مسئلہ: مغرب کا اصل خوف کیا ہے؟
معاہدے میں نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن مغرب کا اصل خوف یورینیم کے افزودہ ذخائر نہیں، بلکہ مسلمانوں کی “سائنسی صلاحیت” (Scientific Capability) ہے۔ مغرب کا مؤقف واضح ہے: “ان کے پاس ٹیکنالوجی کی صلاحیت ہونا ہی سب سے بڑا خطرہ ہے، چاہے وہ ایٹم بم نہ بھی بنائیں۔” کوئی بھی معاہدہ اس ذہنی صلاحیت اور علم کو ڈیلیٹ نہیں کر سکتا، وہ صرف اس کے نتائج کی ٹائم لائن کو کچھ سال پیچھے دھکیل سکتا ہے۔
5. کیا امریکہ نے ایران کو جھکا دیا؟ (تاریخی تناظر)
تاریخ گواہ ہے کہ جب دو طاقتیں جنگ لڑتے لڑتے تھک جاتی ہیں، تو وہ امن معاہدہ نہیں کرتیں، بلکہ اگلی جنگ کی تیاری کے لیے صرف “وقفہ” (Strategic Stalemate/Pause) لیتی ہیں۔ یہاں اصل حقیقت درمیانی ہے۔ نہ یہ امریکہ کی مکمل فتح ہے، نہ ایران کی مکمل شکست۔ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہ ایک وقفہ ہے۔ کتنا لمبا وقفہ ہے؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
حرفِ آخر: امتِ مسلمہ کے لیے ایک سخت اور تلخ سبق
ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ طاغوت اور استعماری طاقتوں کو شکست سوشل میڈیا پر جذباتی ترانوں، کھوکھلے نعروں یا ہیش ٹیگز سے نہیں دی جا سکتی۔ طاغوت صرف اور صرف “طاقت” کی زبان سمجھتا ہے۔
قرآن کا اصول جذباتیت سے پاک، کائناتی اور دو ٹوک ہے:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾
(اور ان کے مقابلے کے لیے تم تیار رکھو جتنی طاقت تم سے ہو سکے)
ہمیں مبالغہ آرائی سے نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ آج ہم علمی، معاشی اور مادی لحاظ سے طاغوتی طاقتوں سے صدیوں پیچھے ہیں۔ آج کا جہاد اور بقا کی جنگ صرف روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔
آج کی دنیا میں جن چیزوں سے جنگیں جیتی اور ہاری جاتی ہیں وہ یہ ہیں:
مضبوط ترین اور خود مختار معیشت
جدید ترین ٹیکنالوجی، ریسرچ اور سائنس کی لیبارٹریاں
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور سائبر وار فیئر پر مکمل عبور حاصل کرنا
میڈیا، انفارمیشن وار اور عالمی بیانیے کو کنٹرول کرنا
یہ حالیہ معاہدہ نہ کسی کا حتمی اختتام ہے، نہ عالمِ اسلام کی مکمل فتح، اور نہ ہی شکستِ فاش۔ حق و باطل اور استعمار و اسلام کی کشمکش ایک دائمی حقیقت ہے۔
جنگ ختم نہیں ہوئی اس نے صرف اپنی شکل اور اپنا محاذ بدل لیا ہے۔
امت کے نوجوانوں کو چاہیے کہ سکرینوں کے پیچھے جذباتی بحثوں اور فرقہ وارانہ تقسیم میں الجھنے کے بجائے، خود کو جدید علم، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ کردار کے ہتھیاروں سے لیس کریں، کیونکہ مستقبل کا اصل معرکہ اسی میدان میں لڑا جانا ہے۔ جذباتی و کھوکھلے نعروں کا نتیجہ محض ہلاکت ہے۔
