Is a sinful Muslim an infidel?=کیا گنہگار مسلمان کافر ہے؟

May be an image of ‎map and ‎text that says '‎کیاگناہ_گار مسلمان کافر یایہ خوارجکی خوارجکیخطرناک خطرناک غلطیہے؟ ایکہم ایکاہمسوال- سوال والایک فیصلہ منجواب یصلہ_کنجواب توکیاپاکستانکےعام مسلمان بھیک فرہوگے؟ Box Question اگراللهکا نافرمانیکوکفر اصل کنفیوژن Golden Rule نافرمانی#بغاوت نافرما_نی_دفسق اللہکوماتاہے قانونکوحسمجھتاہ قانونکو اللہکساتاکیتان عمل کمزوری عملمیںکمزوری مسلمان گناہ/مسلمان بغاوت(کفر) اللہکے ٹدکےقانونکاانکار خودقانونسازی کفر خوارج کی غلطی ہرگناہگارکافر خوزیزی اسلامی تحريك تحریک_اسلامی کا مؤقف گناہگارکافر نہیں ملنظامہے تکفیر پاکستانکی حقیقت مئین:حاکمیتاللہکی عمل:کملغغاذنہیں نظریاتی_گفر؟ عملیگمزوری؟ یکفرنہیں-یہفسقہے غلطی پاکستانکودارالندوہکہنا خوارج: خوارج:قل قل سیکولر:انکار ت:اصلاح درستراستہ:اھلات+نامرکیجہدی تبدیلی نہیں عاممسلمانکافرنہیں انسان، مسئلہ مسئگلہانسان نہیں-نظام نہیں،نظام اسنہیںے۔ناہےہبواکںکونیںہقاہمہے‎'‎‎

ایک بہت زبردست سوال اور اس کا جواب
سوال:
آپ نے قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات کو ڈیفائین کرتے ہوئے اقتدار اور حکم ماننے کو ہی اصل دین کہ دیا ہے یعنی اللہ کو ماننے سے بھی زیادہ سخت اللہ کا حکم بن گیا اور آپ کی تشریح کے مطابق جو حکم نہیں مانے گا وہی سب بڑا کافر و مشرک ہوگیا یعنی وہ عام کافر سے بھی بڑا کافر ہوگیا اور اگر مسلمان ہے تو مرتد ہوگیا یہ تو آپ خارجیوں والی بات کر رہے ہیں مطلب یہ ہوا سو جو عام مسلمان جو اللہ کا حکم نہیں مانتے اس کا اقتدار نہیں مانتے کیا وہ کافر و مرتد ہوگئے؟

جواب: بہت زبردست، بروقت اور اہم سوال آپ نے کیا ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے جہاں اکثر لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں اور “تحریکِ اسلامی” کی فکر کو “خوارج” کی فکر سے خلط ملط کر دیتے ہیں۔

یہ سوال اکثر ذہنوں میں ابھرتا ہے اور بجا طور پر ابھرتا ہے:

“جب آپ کہتے ہیں کہ اللہ کی حاکمیت نہ ماننا سب سے بڑا کفر ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان اللہ کے احکام پر عمل نہیں کرتے، وہ سب کافر یا مرتد ہوگئے؟ یہ تو خوارجوں والی بات ہے!”

یہ سوال نہایت اہم ہے اور اس کا جواب اس سے بھی زیادہ اہم۔ کیونکہ یہاں ایک ایسی غلط فہمی گھر کر جاتی ہے جو دو الگ الگ راستوں پر لے جاتی ہے:

ایک راستہ خوارجی تکفیر کا،

دوسرا نظام سے ہی مکمل لاتعلقی کا۔

دونوں غلط ہیں، اور دونوں کی جڑ ایک ہی ہے

نافرمانی اور بغاوت کے فرق کو نہ سمجھنا۔

پہلا اصول: نافرمانی اور بغاوت میں زمین آسمان کا فرق ہے

اسے ایک آسان مثال سے سمجھیں:

ایک شہری ملک کا آئین مانتا ہے، حکومت کو جائز سمجھتا ہے، لیکن ٹریفک قانون توڑ دیتا ہے، ٹیکس چھپاتا ہے یا کوئی جرم کر بیٹھتا ہے۔ یہ شخص مجرم ہے، غدار نہیں۔ اسے سزا ملے گی، لیکن اس کی شہریت نہیں چھینی جائے گی۔

اب ایک دوسرا شخص لیجیے جو کہتا ہے: “میں اس آئین کو مانتا ہی نہیں، قانون بنانے کا حق صرف مجھے ہے۔” یہ شخص مجرم نہیں باغی ہے۔ یہ جرم اور غداری میں فرق ہے۔

اسلامی اصطلاح میں:

نافرمانی (فسق):

بندہ اللہ کو رب مانتا ہے، اس کے قانون کو حق جانتا ہے، مگر اپنی کمزوری، نفس کی خواہش یا دنیاوی لالچ کی وجہ سے حکم پر عمل نہیں کر پاتا۔ یہ گناہ ہے، توبہ سے معاف ہونے والا گناہ۔ ایسا شخص فاسق ہے کافر نہیں۔

بغاوت (کفر):

بندہ کہتا ہے کہ اللہ کو قانون بنانے کا حق ہی نہیں، انسانی عقل وحی سے بڑی ہے، ہم خود اپنے قانون بنائیں گے اور اس عقیدے کا کھلے عام اعلان کرتا اور اس کی دعوت دیتا ہے۔ یہ انکار ہے ایمان کی جڑ کاٹ دینے والا انکار۔
یہ فرق سمجھ لیا جائے تو پوری بحث آسان ہو جاتی ہے۔

اب دیکھتے ہیں خوارج کون تھے اور ان کی غلطی کیا تھی؟

خوارج اسلام کا پہلا انتہا پسند فرقہ تھا جو حضرت علیؓ کے دور میں نمودار ہوا۔ ان کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے گناہ اور کفر کے درمیان کی سرحد مٹا دی۔
ان کا نظریہ تھا:

جو گناہ کرے وہ کافر ہے
جو کافر ہے وہ واجب القتل ہے
جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے

رسول اللہ ﷺ نے انہیں “کلاب النار” (جہنم کے کتے) فرمایا اور حضرت علیؓ نے ان سے جنگ کی۔ کیوں؟ کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتے تھے، اور اپنی تنگ نظری کو “دین” کا نام دیتے تھے۔
خوارجی ذہنیت کی پہچان آج بھی یہی ہے:

ہر گناہ گار کو کافر قرار دینا
ہر اسلامی حکومت کو “طاغوت” کہنا
مغلوبیت کے حالات میں بھی تلوار اٹھانا فرض سمجھنا
اپنے سوا سب کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھنا

یہی وہ سوچ ہے جس کی آڑ میں آج تحریکِ طالبان پاکستان پاکستانی فوج کے جوانوں کو شہید کرتی ہے، مساجد میں بم پھوڑتی ہے، اور اپنے اس قتل و غارت کو “جہاد” کا نام دیتی ہے۔

چوتھا اصول: تحریکِ اسلامی کا منہج تکفیر نہیں، تطہیر

تحریکِ اسلامی جس کی پاکستان میں نمائندگی جماعتِ اسلامی کرتی ہے کا موقف خوارج سے بالکل مختلف ہے۔

تحریکِ اسلامی یہ نہیں کہتی: “جو اللہ کے قانون پر عمل نہیں کرتا وہ کافر ہے۔”

تحریکِ اسلامی یہ کہتی ہے: “جو اللہ کے قانون بنانے کے حق کا ہی انکار کرے، وہ کافر ہے۔”

فرق دیکھیے:

عمل کی کمی ← گناہ ← فسق ← توبہ سے معافی ممکن
نظریے کا انکار ← کفر ← ایمان کی بنیاد کا خاتمہ

تحریکِ اسلامی کا مقصد گناہ گار مسلمانوں کو کافر قرار دینا نہیں بلکہ نافرمانوں کو وفادار بنانا، اور غیر اسلامی نظام کو اندر سے اسلامی بنانا ہے۔

یہ تکفیر (لوگوں کو دین سے نکالنا) نہیں، تطہیر (نظام کو پاک کرنا) ہے۔

پانچواں اصول: پاکستانی پارلیمنٹ “دارالندوہ” نہیں ہے

یہاں وہ لوگ بہت بڑی تاریخی غلطی کرتے ہیں جو پاکستانی پارلیمنٹ کو مکہ کے “دارالندوہ” سے تشبیہ دیتے ہیں۔

دارالندوہ کیا تھا؟ وہ مکہ کی وہ مجلس تھی جس نے اللہ کی حاکمیت کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا تھا، جس نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی سازش رچی، جس کی بنیاد ہی کفر پر تھی۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کیا ہے؟ وہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کے آئین کی دفعہ ۲ میں لکھا ہے: “اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے۔” دفعہ ۲-الف میں درج ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ کے لیے ہے، اور پارلیمنٹ اس حاکمیت کی امانت دار ہے۔

یعنی پاکستان کی پارلیمنٹ نے نظریاتی طور پر اللہ کی حاکمیت تسلیم کی ہوئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس اقرار کے باوجود عملاً اللہ کا قانون پوری طرح نافذ نہیں ہو رہا۔

یہ نظریاتی کفر نہیں — یہ عملی فسق ہے۔

اور عملی فسق کا علاج تلوار نہیں، اصلاح ہے۔ بائیکاٹ نہیں، اندر سے تبدیلی ہے۔

جو لوگ آج پاکستانی پارلیمنٹ کو دارالندوہ کہتے ہیں، وہ لاشعوری طور پر اسی خوارجی ذہنیت کو ہوا دے رہے ہیں — اور اسی سوچ کا فائدہ اٹھا کر ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں فوجی جوانوں کو “مرتد” کہہ کر قتل کرتی ہیں۔

چھٹا اصول: سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں حکمتِ عملی

نبی کریم ﷺ کے دور میں مکہ کا نظام دارالندوہ تھا — خالص کفر، جس نے اللہ کی حاکمیت کا سرے سے انکار کیا۔ اس لیے وہاں حکمتِ عملی یہ تھی: نظام سے مکمل علیحدگی، دعوت پر توجہ، جماعت کی تیاری، اور پھر ہجرت۔
مدینہ کا نظام مختلف تھا جہاں اللہ کی حاکمیت تسلیم کر لی گئی، وہاں نبی ﷺ نے ریاست کے اندر رہ کر اسے مزید بہتر بنایا۔

پاکستان آج کہاں ہے؟ مدینہ اور مکہ کے درمیان — آئینی اقرار موجود ہے، عملی نفاذ ناقص ہے۔ اس لیے حکمتِ عملی بھی درمیانی ہے: نظام کے اندر رہ کر، جمہوری عمل کے ذریعے، فکری اور اخلاقی تبدیلی لانا۔

اگر خدانخواستہ کوئی حکومت آئین تبدیل کر کے اللہ کی حاکمیت کے اقرار کو ہی ختم کر دے — تب حکمتِ عملی بدلے گی۔ اس وقت مکہ والا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ لیکن جب تک آئینی اقرار موجود ہے، پارلیمنٹ کو دارالندوہ کہنا نہ صرف تاریخی غلطی ہے بلکہ خوارجیت کا دروازہ کھولنا ہے۔

ساتواں اصول: عام مسلمان کا حکم

اب وہ سوال جو سب سے پہلے پوچھا گیا تھا — کیا وہ مسلمان جو اللہ کے احکام پر پوری طرح عمل نہیں کرتے، کافر ہیں؟

جواب: قطعاً نہیں۔
جب تک ایک مسلمان:

دل سے اللہ کو رب اور قانون ساز مانتا ہے
اپنی کوتاہی کو کوتاہی سمجھتا ہے، حق نہیں
اللہ کے دین کو بہتر اور برحق جانتا ہے

تب تک وہ مسلمان ہے، گناہ گار مسلمان، مگر مسلمان۔
اسے کافر کہنا خود ایک بہت بڑا گناہ ہے — بلکہ حدیث کی رو سے جو کسی مسلمان کو ناحق کافر کہے، کفر اسی پر لوٹتا ہے۔

خلاصہ: تین جملوں میں پوری بحث

نافرمانی گناہ ہے، توبہ سے معاف ہوتی ہے — یہ کفر نہیں۔
بغاوت یعنی اللہ کی حاکمیت کا نظریاتی انکار — یہ کفر ہے۔
پاکستان میں مسئلہ نظریاتی بغاوت کا نہیں، عملی کوتاہی کا ہے — اس کا علاج اصلاح ہے، تکفیر نہیں۔

آخری بات: ہمارا کام کیا ہے؟

پاکستان ایک ایسی قید خانے کی مانند ہے جس کے دروازے پر لکھا ہے: “لا الٰہ الا اللہ” — لیکن اندر کی دیواریں ابھی تک جاہلیت کی اینٹوں سے بنی ہیں۔
خوارجی کہتے ہیں: قیدی مرتد ہیں، انہیں مار دو۔
سیکولر کہتے ہیں: دروازے کا کتبہ بھی ہٹا دو۔
تحریکِ اسلامی کہتی ہے: زنجیریں کاٹو، دیواریں گراؤ، اور اس عمارت کو اس کتبے کے لائق بناؤ — قیدیوں کو نہیں، نظام کو بدلنا ہے۔
یہی سیرتِ نبویؐ کا سبق ہے، یہی قرآن کی روح ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو نہ خوارجیت کی دلدل میں اترتا ہے، نہ سیکولر لاتعلقی کی کھائی میں گرتا ہے۔