The nexus of Saitan and the soul=شیطان اور نفس کا گٹھ جوڑ

اسلامی نفسیات اور تزکیۂ نفس: قسط نمبر 3
شیطان اور نفس کا گٹھ جوڑ

پچھلی قسط میں ہم نے جانا کہ انسان کا وجود ایک شاندار سلطنت کی طرح ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنی خلافت (نیابت) قائم کرنے کے لیے بنایا ہے۔ اس سلطنت کا مرکز اور دارالحکومت انسان کا “دل” (قلب) ہے۔

اب اس دل پر حکمرانی کے لیے ایک مسلسل جنگ جاری ہے۔ ایک طرف وحی کی روشنی، سمجھ بوجھ اور ایمان کی طاقتیں ہیں، تو دوسری طرف شیطان اور نفسِ امّارہ (برائی پر اکسانے والے نفس) کا تاریک گٹھ جوڑ ہے۔ آج ہم اسی تاریک گٹھ جوڑ کا جائزہ لیں گے تاکہ جان سکیں کہ “گھر کا بھیدی لنکا کیسے ڈھاتا ہے”۔

1. کرداروں کی پہچان: قلعہ، بیرونی دشمن اور اندرونی غدار

فرض کریں کہ آپ کا دل ایک مضبوط قلعہ ہے، جسے اللہ کی بندگی اور دین کے غلبے کی جدوجہد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس قلعے میں ایمان، یقین، حیا، اخلاص اور تقویٰ کے خزانے موجود ہیں۔

شیطان (بیرونی دشمن): یہ وہ دشمن ہے جو قلعے کے باہر کھڑا ہے۔ قرآنِ مجید واضح کرتا ہے کہ شیطان کے پاس کوئی جسمانی طاقت نہیں کہ وہ زبردستی آپ کا ہاتھ پکڑ کر گناہ کروا سکے۔ اس کا کام صرف باہر سے آوازیں لگانا، وسوسے ڈالنا اور برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا ہے۔

نفسِ امّارہ (اندرونی غدار): یہ اس قلعے کا چوکیدار ہے۔ نفس دراصل ہماری فطری خواہشات کا نام ہے جیسے بھوک، غصہ، مال اور آرام کی محبت۔ اسلام کی نظر میں یہ چیزیں بذاتِ خود بری نہیں، انسان کو دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔ لیکن جب یہ خواہشات بے قابو ہو جائیں اور اللہ کی نافرمانی پر اکسانے لگیں، تو یہ چوکیدار ‘غدار’ بن جاتا ہے۔

2. کتا اور گوشت کی بو

امام غزالیؒ نے شیطان اور نفس کے تعلق کو ایک بہت سادہ اور زبردست مثال سے سمجھایا ہے:

اگر آپ کے ہاتھ میں گوشت کا ٹکڑا ہے اور ایک بھوکا کتا آپ کے پیچھے لگ جائے، تو آپ کتے کو جتنا مرضی دھتکاریں، وہ تھوڑی دور جائے گا اور گوشت کی بو سونگھ کر پھر واپس آ جائے گا۔ کتے کو مستقل بھگانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے وہ گوشت دور پھینک دیں۔

یہاں کتا ‘شیطان’ ہے اور گوشت ‘نفس کی ناجائز خواہشات’ ہیں۔ شیطان اور نفس کا تعلق خریدار اور بیچنے والے کا ہے۔ جب تک ہمارے اندر لالچ، حسد، شہرت کی طلب یا آرام طلبی کا “گوشت” موجود ہے، شیطانی وسوسوں کا کتا ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔

3. گناہ کا طریقۂ کار: یہ گٹھ جوڑ کام کیسے کرتا ہے؟
یہ دونوں مل کر ایک بندۂ مومن کو کیسے گراتے ہیں؟ اس کے چند قدم ہیں:

پہلا قدم (نفس کی مانگ): نفس کسی دنیاوی لذت یا آرام کی خواہش کرتا ہے۔ مثلاً، نفس کہتا ہے: “ابھی سوتا رہوں، نماز میں وقت ہے” یا اقامتِ دین کی راہ میں سستی دکھاتے ہوئے کہتا ہے: “یہ راستہ بہت مشکل ہے، خاموشی سے بس اپنی زندگی گزارو۔”

دوسرا قدم (شیطان کا وسوسہ): شیطان باہر بیٹھا اسی کمزوری کی تاک میں ہوتا ہے۔ وہ نیکی سے براہِ راست نہیں روکتا بلکہ اسے ٹالتا ہے۔ وہ سرگوشی کرتا ہے:

“ابھی تو بہت وقت ہے۔ تھوڑی نیند پوری کر لو پھر زیادہ دھیان سے عبادت کرنا۔ اللہ تو غفور و رحیم ہے۔”

تیسرا قدم (غدار کا دروازہ کھولنا): نفس، جسے پہلے ہی سونا یا غفلت میں پڑنا تھا، شیطان کی اس بظاہر “عقلمندانہ” دلیل سے خوش ہو کر اندر سے قلعے کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ انسان کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔

چوتھا قدم (قلعے پر قبضہ): دروازہ کھلتا ہے، شیطان اندر داخل ہوتا ہے اور انسان گناہ (فرض چھوڑنے یا باطل سے سمجھوتے) کا شکار ہو جاتا ہے۔

گناہ کے بعد کا مرحلہ: شیطان کا اصل کھیل

گناہ کروانے کے بعد شیطان کا اگلا اور سب سے خطرناک وار شروع ہوتا ہے، جس کا مقصد انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کر کے ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنانا ہے:

بے حسی کا زہر: گناہ کے فوراً بعد شیطان ضمیر کو سلانے کی کوشش کرتا ہے: “کوئی بات نہیں، تم نے کون سا کوئی بڑا ظلم کیا ہے۔ آج کل سبھی ایسا کرتے ہیں، مکمل دین پر چلنا آج کے دور میں ممکن ہی نہیں۔ دین غالب کرنا صرف رسولوں کا کام تھا تمہارا نہیں “

اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ گناہ کا احساس ہی ختم ہو جائے۔

مایوسی کی دلدل: اگر انسان کا ضمیر جاگ جائے اور اسے شرمندگی ہو، تو شیطان مایوسی کا وار کرتا ہے: “اب کیا فائدہ؟ تم تو ہو ہی گناہ گار، تمہارے دل پر مہر لگ چکی ہے۔ اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ تم دین کا کام کرنے کے لائق ہی نہیں ہو۔” شیطان جانتا ہے کہ مایوسی کفر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان توبہ کرنے کا سوچے ہی نہ۔

گناہوں کا تسلسل: جب انسان مایوس ہو جاتا ہے یا گناہ کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، تو ایک گناہ دوسرے گناہ کا دروازہ کھولتا ہے، اور انسان کا کردار مکمل طور پر جاہلیت کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔

نجات کا راستہ: بیداری اور فوری رجوع

یہاں ایک بنیادی حقیقت یاد رکھیں: شیطان کا سب سے بڑا ڈر آپ کا “گناہ” کر لینا نہیں، بلکہ گناہ کے بعد آپ کی “سچی توبہ” ہے۔

اگر آپ گناہ کے فوراً بعد وضو کر کے سجدے میں گر جائیں اور بے ساختہ پکاریں: “یا اللہ! میرا نفس ہار گیا، شیطان دھوکہ دے گیا، لیکن میں تیرا ہی بندہ ہوں اور تیرے پاس واپس آ گیا ہوں”، تو شیطان کی برسوں کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔

شیطانی جادو توڑنے والی چابی (تقویٰ):

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

“حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ متقی ہیں، ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر نگاہِ بصیرت کھول کر دیکھنے لگتے ہیں کہ صحیح راستہ کون سا ہے۔” (الاعراف: 201)

شیطان کا سارا کھیل اندھیرے اور غفلت پر قائم ہے۔ جیسے ہی آپ پہچان لیں کہ “یہ جو سستی میرے دل میں آ رہی ہے، یہ میں نہیں، میرا دشمن شیطان ہے”، تو آپ کی آدھی جنگ وہیں فتح ہو جاتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے گھر میں چور کے گھستے ہی آپ بلب جلا دیں؛ بلب جلتے ہی چور کو بھاگنا پڑتا ہے۔

نفس اور شیطان کو شکست دینے کا بہترین ہتھیار ان کی “مخالفت” ہے۔ اگر نفس غفلت کا کہے، تو فوراً کھڑے ہو جائیں۔ اگر شیطان مایوسی دلائے، تو اسی وقت اللہ کی بارگاہ میں دو نفل ادا کر کے اس کے منہ پر ماریں۔ جب شیطان دیکھتا ہے کہ یہ بندہ ہر وسوسے کے جواب میں اور زیادہ شدت سے اللہ کی طرف بھاگتا ہے، تو وہ مایوس ہو کر دور ہٹ جاتا ہے۔

شیطان اس وقت تک آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک آپ کا اپنا نفس اسے اندر آنے کا راستہ نہ دے۔ اور نفس اس وقت تک آپ پر غالب نہیں آسکتا جب تک آپ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

اپنے نفس کو شریعت کی لگام ڈالیں، شیطان سے ہر لمحہ پناہ مانگیں، اور اپنی تمام تر توانائیاں اللہ کی بندگی اور اس کے دین کو قائم کرنے (اقامتِ دین) میں صرف کر دیں۔ یہی تزکیۂ نفس کی اصل حقیقت اور کامیابی کا سیدھا راستہ ہے۔ 

See less