آج کے اس پرفریب دور میں جب ہم اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہیں، تو سب سے تلخ اور چبھتا ہوا سوال یہی ابھرتا ہے کہ آخر مسلمان کسے کہتے ہیں؟
ہم نے کفر اور اسلام کو محض پیدائشی لیبل سمجھ لیا ہے، حالانکہ ان کا اصل فرق زندگی کے کٹھن فیصلوں میں چھپا ہے۔ کفر کوئی دور دراز کی چیز نہیں، بلکہ اللہ کے واضح حکم کو ماننے سے انکار کرنا اور ہٹ دھرمی سے اپنی مرضی چلانا کفر کی بنیاد ہے۔ اس کے برعکس، اسلام اپنی ہر ضد، انا اور خواہش کو مٹا کر صرف اور صرف اللہ کے حکم کے سامنے غیر مشروط طور پر سر جھکا دینے کا نام ہے۔
بدقسمتی سے، ہم نے مٹی اور پتھر کے بت تو گرا دیے، لیکن ہمارے سینوں میں آج بھی گمراہی کے تین بڑے بت پوری شان سے سجے ہوئے ہیں، جن کی ہم روزانہ پوجا کرتے ہیں:
گمراہی کا پہلا بت ہماری اپنی ذات اور خواہشات کی غلامی ہے۔ جو انسان صبح سے شام تک صرف اپنے ذاتی فائدے، پیسے کی ہوس اور دنیاوی لالچ کی آواز سنتا ہے، اس نے دراصل اپنے نفس کو ہی اپنا خدا بنا لیا ہے۔ یاد رکھیے، اللہ کا سچا بندہ کبھی اپنی نیچ اور بری خواہشوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتا۔
گمراہی کا دوسرا بت ہمارے بوسیدہ خاندانی رسم و رواج ہیں۔ جب خالقِ کائنات کا واضح حکم سامنے ہو اور ہم ڈھٹائی سے یہ عذر پیش کریں کہ “ہمارے خاندان کا رواج یہ نہیں”، تو یہ کوئی مجبوری نہیں بلکہ آسمان والوں کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ حق کبھی کسی قبیلے یا خاندانی رسم کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ رسموں کو ہر حال میں حق کے تابع ہونا چاہیے۔
گمراہی کا تیسرا بت دنیا والوں کا خوف اور طاقتوروں کی مرعوبیت ہے۔ بڑے عہدے داروں، امیر لوگوں یا دنیاوی طاقتوں کے رعب میں آ کر اندھی پیروی کرنا بدترین شرک ہے۔ جو انسان اپنے نفع و نقصان کے لیے انسانوں سے ڈر کر فیصلے کرے، اس کا خدا پر کیسا یقین؟ وہ کبھی خدا کا سچا بندہ نہیں ہو سکتا۔
اب ذرا اپنے آج کے حال اور اپنی منافقت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر دیکھیے۔ ہم نے کروڑوں روپے لگا کر مسجدیں تو بہت بڑی اور عالی شان بنا لیں، لیکن جب عملی زندگی، کاروبار اور رشتوں کے فیصلوں کا وقت آتا ہے، تو ہم آج بھی انھی تین بتوں (خواہش، رواج اور دنیا) کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم صرف نام اور شناختی کارڈ کی حد تک مسلمان رہ گئے ہیں۔
اسلام کے بلند و بانگ دعوؤں اور ہماری زمینی حقیقت کا تضاد دیکھیے۔ اسلام نے کالے گورے اور عربی عجمی کے تمام بت توڑے تھے، مگر ہم آج بھی نہایت فخر سے راجپوت، جٹ اور پٹھان جیسی کھوکھلی ذات پات میں بٹے ہوئے ہیں۔ اس سے بھی بڑی منافقت کیا ہوگی کہ جب وراثت بانٹنے کا وقت آتا ہے، تو ہم خاندانی رواج کا بے ہودہ بہانہ بنا کر اپنی ہی بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں ان کا شرعی حق دینے سے مکر جاتے ہیں۔ کیا کسی کا حق مارنے اور معاشی قتل کرنے کا نام اسلام ہے؟
لہٰذا، حتمی فیصلہ نہایت دو ٹوک اور غیر معذرت خواہانہ ہے۔ اگر سچا مسلمان بننا ہے، تو محض دعوے کام نہیں آئیں گے۔ جب تک ہمارے دلوں سے نفسانی خواہشات، جھوٹی سماجی رسموں اور دنیا کی غلامی کے یہ تینوں بت پاش پاش نہیں ہوں گے، ہم سچے مسلمان نہیں بن سکتے۔ سچی بندگی صرف اور صرف ایک اللہ کی ہے، اور اس بندگی میں نہ کوئی دنیاوی طاقت شریک ہو سکتی ہے، نہ کوئی خاندانی رواج