
ہم میں سے اکثر لوگ گھر کو ایک ایسی جگہ سمجھتے ہیں جہاں رات کو سوتے ہیں، صبح اٹھتے ہیں اور اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔
یعنی ایک ہوٹل کی طرح اسے ٹریٹ کرتے ہیں
لیکن اگر ذرا گہری نظر سے دیکھیں تو یہ چھوٹی سی عمارت اصل میں اس کائنات کی سب سے پہلی اور سب سے مضبوط اکائی ہے
وہ بیج جس سے پوری تہذیب اگتی ہے۔
آج کا گھر ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہے۔
باپ تھکا ہوا گھر آتا ہے تو سیدھا ٹی وی یا موبائل کی سکرین میں گھس جاتا ہے۔ بیوی سے کوئی بات چیت نہیں بچوں سے کوئی لگاو نہیں
دوسری طرف ماں دن بھر کے کاموں سے نڈھال ہو کر بس کسی طرح رات گزارنا چاہتی ہے۔ بچے اپنی اپنی اسکرین میں کھوئے ہوئے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے چار لوگ بیٹھے ہیں، لیکن ہر کوئی اپنی دنیا میں۔ یہ گھر ہے یا مسافر خانہ؟
اور سب سے بڑا سوال یہ ہے
اس گھر کا مرکز کیا ہے؟ اس کو چلانے والا اصول کیا ہے؟
مغربی سوچ کہتی ہے کہ ہر فرد آزاد ہے، اپنی مرضی کا مالک ہے، جو جی چاہے کرے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں ہر شخص اپنے نفس کا غلام ہو جاتا ہے اور جہاں سب اپنے اپنے نفس کے پیچھے بھاگ رہے ہوں، وہاں نہ سکون ہوتا ہے، نہ محبت، نہ مقصد۔
دوسرا قدم: ایک نئی نظر گھر بطور ریاست
اب ذرا اپنی سوچ کا زاویہ بدلیے۔
گھر ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ اس ریاست کا اپنا آئین ہے، اپنے عہدیدار ہیں، اپنے شہری ہیں، اور سب سے اہم بات اس کا ایک مقصد ہے۔ یہ مقصد صرف روٹی کمانا یا بچوں کو اسکول بھیجنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس گھر سے ایسے انسان نکلیں جو دنیا کو بہتر جگہ بنائیں۔
لیکن کوئی بھی ریاست بغیر نظام کے نہیں چلتی۔ تو اس ریاست کا نظام کیا ہوگا؟
تیسرا قدم: آئین جو سب سے اوپر ہے
ہر ریاست کا ایک آئین ہوتا ہے وہ بنیادی قانون جس سے اوپر کوئی نہیں جا سکتا۔
اس گھریلو ریاست کا آئین اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں ہر وقت خشک مذہبی لیکچر چلتے رہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی فیصلہ ہو چاہے وہ بچے کے اسکول کا انتخاب ہو، گھر کا بجٹ ہو یا آپس کا کوئی تنازعہ پرکھنے کی کسوٹی یہ ہو کہ
اس میں اللہ کی رضا ہے یا نہیں؟
جب گھر کا مرکز انسان کی خواہش نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہو، تو انا کی ٹکراؤ خود بخود کم ہو جاتی ہے کیونکہ پھر جھگڑا “میں صحیح ہوں یا تم” کا نہیں رہتا، بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ “اللہ کے نزدیک صحیح کیا ہے؟”
چوتھا قدم: باپ طاقت کا نشہ نہیں، ذمہ داری کا بوجھ
اب آتے ہیں اس ریاست کے “امیر” کی طرف یعنی باپ۔
اسلام نے باپ کو “قوام” بنایا ہے۔ لیکن یہاں رکیے — قوام کا مطلب حاکم یا آقا نہیں ہے۔ قوام کا مطلب ہے نگہبان، محافظ، منتظم۔ وہ شخص جو سب سے پہلے اٹھتا ہے اور سب سے آخر میں سوتا ہے — اس لیے نہیں کہ اسے زیادہ حقوق ملیں، بلکہ اس لیے کہ اس کی ذمہ داری سب سے بڑی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یعنی باپ کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے یہ حساب دینا ہے کہ اس نے اپنے گھر والوں کو کیسے سنبھالا۔ یہ سوچ ہی باپ کو جابر بادشاہ سے جوابدہ خلیفہ میں بدل دیتی ہے۔
پانچواں قدم: ماں ریاست کی روح
لیکن کیا کوئی ریاست صرف سربراہ سے چلتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
ماں اس ریاست کی روح ہے وزیرِ داخلہ، جس کے بغیر پورا نظام بے جان ہو جائے۔ باپ باہر کا محاذ سنبھالتا ہے، ماں اندر کی فضا بناتی ہے۔ اور یہ اندر کی فضا ہی وہ چیز ہے جو بچوں کی روح میں اتر جاتی ہے۔ بچہ پہلی زبان اسکول میں نہیں، ماں کی گود میں سیکھتا ہے۔ پہلی محبت، پہلی سچائی، پہلا حوصلہ یہ سب ماں کی درسگاہ سے ملتا ہے۔
ماں محض تابع نہیں ہے وہ سب سے قریبی مشیر ہے، سب سے سمجھدار آواز ہے۔ جس گھر میں ماں کو نظرانداز کیا جائے، وہ ریاست اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے، چاہے باہر سے کتنی ہی مضبوط لگے۔
چھٹا قدم: بچے شہری نہیں، امانتیں
اور بچے؟ وہ محض گھر کے شہری نہیں وہ اللہ کی امانتیں ہیں جو والدین کے ہاتھوں میں دی گئی ہیں۔
ان کا فرض ہے کہ والدین کی اطاعت کریں، ان کا ادب کریں لیکن ان کا حق بھی ہے کہ ان کی بات سنی جائے، ان کے ساتھ انصاف ہو، انہیں رائے دینے کی آزادی ملے۔ اور ہاں، اگر کبھی والدین انہیں اللہ کے قانون کے خلاف کسی کام کا حکم دیں تو پھر اصل وفاداری اللہ سے ہے، والدین سے نہیں۔ یہی وہ نازک توازن ہے جو اسلام نے سکھایا ہے۔
ساتواں قدم: شوریٰ جب دسترخوان پارلیمنٹ بن جائے
اب آتے ہیں اس ریاست کے سب سے خوبصورت حصے کی طرف
مشاورت۔
تصور کریں ایک رات عشاء کے بعد عبداللہ (باپ)، فاطمہ (ماں)، پندرہ سالہ حسن اور بارہ سالہ زینب سب ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔ مسئلہ ہے موبائل اور اسکرین کا فجر کی نماز چھوٹ رہی ہے، نیند خراب ہو رہی ہے، گھر کا سکون ٹوٹ رہا ہے۔
باپ نے لیکچر نہیں دیا۔ اس نے پوچھا: “آپ سب کا کیا خیال ہے؟”
حسن نے کہا کہ میرے اسائنمنٹس رات کو آتے ہیں۔ زینب نے کہا کہ تھوڑی تفریح بھی ضروری ہے۔ ماں نے دونوں پہلو رکھے نماز بھی، تعلیم بھی۔ اور پھر باپ نے سب کی بات سن کر فیصلہ کیا: رات دس بجے کے بعد تمام ڈیوائسز لاؤنج کی ٹوکری میں، تعلیمی کام کے لیے ماں کی اجازت سے استثنیٰ، اور مغرب سے عشاء کا وقت صرف خاندان کے لیے۔
یہ آمریت نہیں تھی۔ یہ مغربی جمہوریت بھی نہیں تھی جہاں اکثریت کا ووٹ سب کچھ طے کرے۔ یہ تھی
اسلامی شوریٰ
جہاں سب کی بات سنی جاتی ہے، لیکن فیصلہ اللہ کی رضا کو سامنے رکھ کر ہوتا ہے۔
آٹھواں قدم: منزل ایک گھر سے ایک تہذیب
اور یہاں پہنچ کر وہ بڑا سوال سامنے آتا ہے جو سب نے شاید کبھی سوچا نہیں۔
ایک گھر جو اس طرح چلے جہاں باپ جابر نہیں بلکہ جوابدہ ہو، ماں مجبور نہیں بلکہ محور ہو، بچے دبے نہیں بلکہ تربیت یافتہ ہوں، اور فیصلے خواہش سے نہیں بلکہ آئین سے ہوں وہ گھر محض ایک مکان نہیں رہتا۔ وہ بن جاتا ہے
ایک قلعہ، ایک نمونہ، ایک بیج۔
امام الغزالی نے صدیوں پہلے کہا تھا کہ اخلاق کی درستی کا آغاز گھر کی دہلیز سے ہوتا ہے۔ آج بھی یہ بات اتنی ہی سچ ہے۔ جو بچہ گھر میں انصاف دیکھے گا، وہ باہر انصاف کرے گا۔ جو بچہ گھر میں مشاورت سیکھے گا، وہ باہر تحکم نہیں کرے گا۔ جو بچہ گھر میں اللہ کی بالادستی محسوس کرے گا، وہ دنیا کی کسی طاقت کا غلام نہیں بنے گا۔
ایسے ہی چھوٹے چھوٹے گھر مل کر وہ امت بناتے ہیں جو دنیا میں عدل اور سلامتی کا پیغام لے کر اٹھتی ہے۔
تو سوال صرف یہ نہیں کہ آپ کا گھر کیسا ہے
سوال یہ ہے کہ آپ کے گھر سے کیسی دنیا بنے گی؟
