What is the Obediance of Allah?رب کی بندگی کیا ہے؟

اللہ کی فرمانبرداری کیا ہے؟رب کی بندگی کیا ہے؟

ذرا ایک لمحے کے لیے رکیں اور خود سے ایک سیدھا سا سوال کریں: “کیا میں واقعی اپنے رب کا بندہ ہوں؟”
یقیناً آپ کا جواب “ہاں” ہوگا۔ لیکن کیا صرف زبان سے کسی کو اپنا “رب” اور خود کو اس کا “بندہ” مان لینا کافی ہے؟ آئیے آج بندگی کے اس دوغلے اور کھوکھلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں جو ہم نے اپنی سہولت کے لیے خود گھڑ لیا ہے۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں “بندگیِ رب” کے ان ۳ جھوٹے تصورات کو توڑنا ہوگا جن میں ہم سب شعوری یا غیر شعوری طور پر مبتلا ہیں۔
پہلا قدم: زبانی جمع خرچ کی منافقت
ہماری سب سے پہلی اور بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم نے محض کلمہ پڑھ لینے کو بندگی سمجھ لیا ہے۔
کیا یہ کھلی منافقت نہیں کہ ہم زبان سے تو اللہ کو اپنا رب تسلیم کریں، لیکن ہماری عملی، اخلاقی اور سماجی زندگی بالکل ویسی ہی ہو جیسی ایک رب کو نہ ماننے والے کی ہوتی ہے؟ ذرا سوچیں! اگر ایک رب کو ماننے والے اور نہ ماننے والے کے طرزِ زندگی، رویوں اور اخلاق میں کوئی فرق ہی نہیں، تو یہ کیسی بندگی ہے؟ محض زبان سے مان لینے سے حقِ بندگی کبھی ادا نہیں ہوتا۔
دوسرا قدم: رب کو صرف مسجد اور آسمان تک محدود کرنے کی بغاوت
دوسرا اور سب سے خطرناک دھوکہ جو ہم نے خود کو دیا ہے، وہ ہے رب کے اختیار کو محدود کرنا۔
ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اسے ایک مافوق الفطرت (Supernatural) خالق، رازق اور معبود تو مان لیا، لیکن عملی زندگی کی حکمرانی سے اسے بے دخل کر دیا۔ ہم نے زندگی کو دو حصوں میں بانٹ دیا: “مذہبی” اور “دنیاوی”۔
مذہبی زندگی میں: ہم نے نمازوں، روزوں، اور حلال و حرام کے چند فتووں تک تو رب کی بندگی قبول کر لی۔
دنیاوی زندگی میں: جب بات آئی ہمارے تمدن، معاشرت، سیاست، معیشت اور عدالتوں کی… تو ہم نے بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیا: “یہاں رب کے قانون کا کیا کام؟ ان معاملات میں ہم آزاد ہیں اور جو معاشی یا سیاسی نظام چاہیں اپنا سکتے ہیں!”
کیا رب کا اختیار صرف مسجد کی چار دیواری تک ہے؟
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معاشی، سیاسی اور تمدنی معاملات میں آپ بندگیِ رب سے آزاد ہیں، تو سن لیجیے! یہ بندگی نہیں، کھلی بغاوت ہے۔ یہ رب کی توہین ہے!
تیسرا قدم: ہمارا اصل اعلانِ جنگ!
ہمیں بندگی کے اس مسخ شدہ، لولے لنگڑے اور ملاوٹ زدہ تصور سے سخت ترین اختلاف ہے۔ درحقیقت، ہماری اصل لڑائی ہے ہی اس سوچ کے خلاف!
ہم جتنی شدت سے کھلے کفر کے نظام کو چیلنج کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ شدت سے ہم “بندگی” کے ان جھوٹے مفہومات پر حملہ آور ہیں، کیونکہ انہی عقائد کی بدولت دین کا اصل چہرہ اور اس کی روح برباد ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم اس جھوٹے تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔
چوتھا قدم: تو پھر “حقیقی بندگیِ رب” کیا ہے؟
اگر یہ سب بندگی نہیں، تو پھر سچی بندگی کیا ہے؟
قرآن اٹھا کر دیکھ لیں، تمام آسمانی کتابیں پڑھ لیں، حضرت محمد ﷺ سے لے کر پچھلے تمام انبیاء کی تاریخ کھنگال لیں۔ سب کا صرف ایک ہی نعرہ، ایک ہی مطالبہ اور ایک ہی دعوت تھی: رب کو اس کے مکمل معنوں میں رب مانو!
حقیقی بندگیِ رب کا مطلب یہ ہے کہ انسان تسلیم کرے کہ:
اللہ صرف پوجا کے لائق نہیں، وہ حاکم بھی ہے۔
وہ صرف خالق اور رازق نہیں، وہ ہمارا آقا اور مالک بھی ہے۔
وہ صرف دعائیں سننے والا نہیں، وہ ہمارا قانون ساز (Lawmaker) اور جج بھی ہے۔
حقیقی بندگی یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کو—خواہ وہ اس کی نجی (Private) زندگی ہو یا پبلک، اخلاقی ہو یا معاشی، سیاسی ہو یا علمی—اسی ایک رب کی کامل غلامی میں لا کر رکھ دے۔
پانچواں قدم: قرآن کا الٹیمیٹم (کوئی درمیانی راستہ نہیں!)
قرآن نے اس مطالبے کو کس قدر شاندار اور دو ٹوک انداز میں پیش کیا ہے:
(اُدْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً)
“تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ!”
اس کا سیدھا سا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ہستی کا کوئی ایک حصہ، کوئی ایک شعبہ بھی بندگیِ رب سے نکال کر اپنے لیے “ریزرو” (Reserve) مت رکھو۔
آپ زندگی کے کسی بھی موڑ پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ “یہاں میں رب کا نہیں، اپنی مرضی یا کسی دنیاوی حکمران کا پابند ہوں”۔ جہاں رب نے ہدایت دے دی، وہاں آپ کی خود مختاری ختم!
حتمی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے!
ہم جس “بندگیِ رب” کی دعوت دے رہے ہیں، وہ کوئی روایتی مذہبیت نہیں، بلکہ ایک مکمل اور بھرپور انقلاب ہے۔ ہم یہی دعوت لے کر اٹھے ہیں اور ہر مسلمان اور غیر مسلم کو اسی خالص اور غیر مشروط بندگی کی طرف بلاتے ہیں۔
اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے: کیا آپ بندگی کے اس دوغلے پن پر مطمئن رہیں گے، یا اپنا پورا وجود، اپنی سیاست اور اپنی معیشت سمیت پورے کے پورے بندگیِ رب میں داخل ہونے کی ہمت کریں گے؟ جواب خود کو دیجیے گا!

کل ہم دیکھیں گے کہ اصل منافقت کیا ہے؟ اور کیا آپ اور میں اس منافقت میں تو نہیں جی رہے شعوری یا لاشعوری طور پر؟ 

See less

Comments

Muhammad Arif

اس وقت مسلمانوں نے عجیب قسم کا طرزِ زندگی اختیار کیا ہوا ہے میں نے کئ 70سالہ نمازی بوڑھے بندے سے پوچھا ہے کہ آپ نمازیں پڑھتے ہ… 

See more

  • 3w
  • Reply

Drwaseem Ahmed Khan

اسلام سے پہلے جتنے مذاھب تھے انھیں جمہوری رائے کے حوالے کر کے ختم کر دیا گیا ۔انھیں کثرت رائے اور مطلب پرست حکمرانو نے ہی ختم … 

See more

  • 3w
  • Reply

Tahir Tahir

اس وقت دنیا میں ایک سسٹم بن چکا ہے کہ ہر ملک اسی سسٹم پر عمل کررہا ہے ، پہلی بات کوی ملک دوسرے ملک پر قبضہ نہیں کرسکتا ہے دوسر… 

See more

  • 3w
  • Reply

Noor Ul Huda

Right

  • 3w
  • Reply

Zee Ahd

مسلمانوں کا تصور رب ناقص ہے ۔ رب کا تصورِ بس یہیں تک ہے کہ وہ پالنے والا ، پرورش کرنے ، نگہداشت اور حفاظت کرنے والا ہے ، وغیر… 

See more

  • 3w
  • Reply
  • Edited

Ihteshamul Haq

ماشاءاللہ آپ بہت اچھی کاوش کر رہے ہیں

  • 2w
  • Reply