Where did the concept of religious establishment come from?=اقامتِ دین کا تصورکہاں سےآیا؟

اقامتِ دین کا تصور آیا کہاں سے؟

یہ کوئی عام سا لفظ یا کسی انسانی دماغ کا تراشا ہوا نعرہ نہیں ہے۔ اس کی جڑیں سیدھی قرآنِ مجید سے جڑی ہوئی ہیں۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا مقصدِ بعثت بیان کرتے ہوئے ایک واضح اور دو ٹوک حکم نازل فرمایا:

“أَقِيمُوا الدِّينَ” (یعنی: دین کو قائم کرو)۔

اسی مبارک قرآنی حکم “أَقِيمُوا الدِّينَ” سے “اقامتِ دین” کی اصطلاح وجود میں آئی ہے۔ گویا یہ وہ بنیادی کام ہے جس کے لیے اللہ نے اپنے تمام نبیوں کو اس دنیا میں بھیجا۔

اقامتِ دین کا مطلب کیا ہے؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس “دین کو قائم کرنے” کا حکم دیا گیا ہے، اس کا سیدھا اور سادہ مطلب کیا ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے اس کے دو حصوں یعنی ‘دین’ اور ‘اقامت’ کو سمجھنا ضروری ہے۔

جب ہم ‘دین’ کا لفظ سنتے ہیں، تو عام طور پر ذہن میں صرف نماز، روزہ اور مسجد کا خیال آتا ہے۔ لیکن اسلام میں دین کا تصور اس سے کہیں بڑا ہے۔ دین دراصل زندگی گزارنے کا وہ مکمل نقشہ اور نظام ہے، جو اللہ نے انسان کو دیا ہے۔ یہ نظام بتاتا ہے کہ انسان کی ذاتی سوچ سے لے کر اس کا گھر، اس کا کاروبار، عدالتیں، معیشت اور ریاست کیسی ہونی چاہیے۔

اور رہی بات ‘اقامت’ کی، تو اس کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کے پورے حقوق کے ساتھ سیدھا کھڑا کر دینا اور عملی طور پر نافذ کر دینا۔

جب ہم ان دونوں باتوں کو ملاتے ہیں تو “اقامتِ دین” کا مطلب شیشے کی طرح صاف ہو جاتا ہے:

اللہ کے دیے ہوئے اس مکمل نظامِ زندگی (دین) کو صرف کتابوں یا مسجدوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے انسان کی عملی زندگی، معاشرے اور ریاست پر پوری طرح نافذ اور غالب کر دیا جائے۔

اسلام اور اقامتِ دین کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

اس مقام پر یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام اور اقامتِ دین کوئی دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔ اگر اسلام ایک خوبصورت عمارت کا ‘نقشہ’ ہے، تو اس نقشے کے مطابق عمارت کو زمین پر کھڑا کرنے کی محنت کا نام ‘اقامتِ دین’ ہے۔

گویا اسلام ایک پیغام ہے، اور اس پیغام کو دنیا پر غالب کرنے کی عملی جدوجہد ہی اقامتِ دین ہے۔ ایک سچا مسلمان صرف وہ نہیں جو اسلام کو مانتا ہو، بلکہ وہ ہے جو اس اسلام کو دنیا میں نافذ کرنے کی تڑپ اور کوشش رکھتا ہو۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔

اس منزل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟

جب ایک مسلمان کو یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا واحد مقصد اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنا ہے، تو وہ سوچتا ہے کہ اس پہاڑ جیسی منزل تک پہنچا کیسے جائے؟ اسلام نے اس جدوجہد کا ایک انتہائی منطقی اور ترتیب وار خاکہ دیا ہے، جس کے تین واضح قدم ہیں جو زنجیر کی کڑیوں کی طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں:

پہلا قدم (ذاتی تبدیلی – تقویٰ):

کوئی بھی شخص اس وقت تک دنیا کو نہیں بدل سکتا جب تک وہ خود کو نہ بدلے۔ اس سفر کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی ذات پر اللہ کا دین نافذ کرے۔ اس کے دل سے دنیا کی محبت نکل جائے اور اللہ کا خوف اور محبت رچ بس جائے۔ وہ احکاماتِ الٰہی کا سچا پابند بن جائے۔ اسے ‘تقویٰ’ کہتے ہیں۔ یہی اس عمارت کی بنیاد ہے۔

دوسرا قدم (مضبوط اجتماعیت):

چونکہ ایک اکیلا انسان چاہے کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، وہ پورے معاشرے کا نظام نہیں بدل سکتا۔ اس لیے جب چند افراد اپنے اندر تقویٰ پیدا کر لیتے ہیں، تو ان کی اگلی منزل آپس میں جڑنا ہوتی ہے۔ وہ بکھرے ہوئے موتیوں کی طرح نہیں رہتے، بلکہ “اللہ کی رسی” کو مضبوطی سے پکڑ کر ایک منظم جماعت بن جاتے ہیں۔ ان کے اکٹھے ہونے کی بنیاد کوئی قوم، زبان یا دنیاوی مفاد نہیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ کا دین ہوتا ہے۔

تیسرا قدم (معاشرے میں عملی جدوجہد):

جب یہ نیک افراد ایک مضبوط جماعت بن جاتے ہیں، تو وہ اپنے گھروں میں خاموش نہیں بیٹھتے۔ اب وہ معاشرے میں نکلتے ہیں۔ وہ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی طرف بلاتے ہیں (امر بالمعروف) اور برائیوں، ظالمانہ نظاموں اور غلط رسومات سے پوری طاقت سے ٹکراتے ہیں (نہی عن المنکر)۔ وہ مسلسل کوشش کرتے ہیں کہ معاشرے سے باطل اور ظلم کا اندھیرا چھٹ جائے اور اللہ کے عدل و انصاف پر مبنی نظام کا اجالا پھیل جائے۔

اس پورے شعوری سفر کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ جب انسان اس راستے پر چل پڑتا ہے، تو اسے اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ وہ راتوں رات دنیا بدل پایا یا نہیں۔ اقامتِ دین کا مطلب نتائج کا ٹھیکیدار بننا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی آخری سانس تک اپنی پوری طاقت، عقل اور خلوص کے ساتھ اس عظیم جدوجہد کا حصہ بنا رہے۔

یہی اقامتِ دین ہے، یہی “أَقِيمُوا الدِّينَ” کا تقاضا ہے، اور یہی وہ شاہکار منزل ہے جو ایک عام انسان کو اس کائنات کا سب سے قیمتی اور بامقصد وجود بنا دیتی ہے۔ 

See less