Who is a hypocrite?=منافق کون؟

منافق کون؟ (ایک تہذیبی و نفسیاتی محاکمہ)

المیہ یہ نہیں کہ مسلمان آج کمزور ہو گیا ہے؛ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی باطنی غلامی اور اپنی زنجیروں سے اس قدر مانوس ہو چکا ہے کہ اب اسے غلامی تکلیف نہیں دیتی، بلکہ وہ اسی میں اپنے لیے جائے پناہ (comfort) تلاش کرتا ہے۔ منافقانہ رویے سے ہماری مراد یہ نہیں کہ انسان دل میں کفر چھپائے اور زبان سے اقرار کرے۔ آج کی منافقت یہ ہے کہ آدمی جس دین کی پیروی کا دعویٰ کرے، اس کے بالکل برعکس نظامِ زندگی کو اپنے اوپر مسلط پا کر دل سے راضی اور مطمئن رہے۔ ان کے دلوں پر نظامِ باطل کا ایسا زنگ چڑھ چکا ہے کہ اب انہیں طاغوت کی قید بھی آزادی محسوس ہوتی ہے۔
آج جب ہم “باطل نظام” یا “فاسقانہ نظام” کہتے ہیں تو اس سے مراد محض ایوانوں میں بیٹھی پارلیمنٹ یا عدالتوں کی کرسیاں نہیں ہیں۔ آج کا جدید انسان پوچھتا ہے: “کون سا نظام؟”

آج کا نظامِ باطل سیکولرزم، سرمایہ پرستی، قوم پرستی، لبرل انفرادیت (Liberal Individualism) اور صارفیت (Consumerism) کا وہ زہریلا ملغوبہ ہے جو صرف قوانین نہیں بناتا، بلکہ ہمارے دماغوں پر حکومت کرتا ہے۔ آج کا طاغوت صرف کفر کا پرچم لے کر نہیں آتا؛ بلکہ وہ Netflix کے بیانیے، fame culture، سرمائے کی اندھی دوڑ (career obsession)، سود پر کھڑی معیشت (interest-based economy) اور الگورتھمک غلامی (algorithmic slavery) کو “انسانی آزادی” بنا کر انسان کے شعور اور نفسیات پر پوری طرح قابض ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سچے مومن کا دل اس تاریک اور مادہ پرست نظام کو اپنے اردگرد پھلتا پھولتا دیکھے، اور اس کی روح کی آخری گہرائیوں میں بے چینی اور کرب کا طوفان نہ اٹھے؟ مخلصانہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی روح کانپ اٹھے! لیکن اگر وہ اس طاغوت کو بدلنے کے بجائے، اسی نظام کو اپنے لیے سازگار بنانے، اسی سرمایہ دارانہ مشینری کا پرزہ بننے، اور اسی میں اپنے آرام (comfort) کا گوشہ تلاش کرنے میں لگا رہے، تو یہ طرزِ عمل سراسر منافقت ہے۔
اس کے بعد، دوسری چیز جسے ہم مدعیِ ایمان کی زندگی سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، وہ “تناقض” ہے۔
تناقض آج محض ایک فقہی یا ظاہری بحث نہیں رہی، بلکہ یہ ہماری گہری تہذیبی موت کا نام ہے۔ آج کا مسلمان شریعت کا انکار صرف زبان سے نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنی نفسیات، اپنی ترجیحات، اپنی کامیابی کے خود ساختہ معیاروں، اپنے دنیاوی خوف، اور اپنی تہذیبی خواہشات کے ذریعے خاموشی سے خدا کے نظام کو رد کرتا ہے۔
ذرا اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنے اس دورنگے، بہروپیے پن کا تماشا دیکھیے:
ہم نمازیں تو خشوع و خضوع سے پڑھتے ہیں۔
مگر زندگی کا قانون کسی اور کا مانتے ہیں۔
ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے رو پڑتے ہیں۔
مگر اپنی تہذیبی و فکری رہنمائی Netflix اور سوشل میڈیا سے لیتے ہیں۔
ہم اللہ کو پکار کر کہتے ہیں “تو ہی ہمارا رب ہے”۔
مگر career، comfort، اور society کی نام نہاد approval کے سامنے فوراً جھک جاتے ہیں۔
ہم خدا اور آخرت پر ایمان کا بلند بانگ دعویٰ کرتے ہیں۔
مگر اپنے ہی بچوں کو ان مادہ پرست درسگاہوں میں دھکیل دیتے ہیں، جہاں کی پوری تعلیم ہی انسان کو خدا سے کاٹ دینے اور اندھا کنزیومر بنانے کے لیے وضع کی گئی ہے۔
ہم مساجد سے نکلتے ہی لین دین، شادی بیاہ، معیشت اور سیاست میں شریعت کو بھول جاتے ہیں۔
اور نفس کے بنائے ہوئے قانون، خاندانی رواج اور سودی بینکاری کے بتوں پر ماتھا ٹیکنے لگتے ہیں۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہماری دعاؤں میں اثر کیوں نہیں رہا! ہمارے دلوں سے ایمان کی حرارت کیوں ختم ہو گئی!
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا پورے کا پورا دین باطل نظام کا ایک بے بس اور ‘تابعِ مہمل’ حصہ بن کر رہ گیا ہے۔ اگر آج ہمارے دین کے کچھ اجزا (نماز، روزہ، حج) پر عمل ہو بھی رہا ہے، تو صرف اس لیے کہ غالب لبرل اور سیکولر نظام نے انہیں فرد کی “نجی زندگی کا مشغلہ” اور بے ضرر سمجھ کر کچھ رعایات (Concessions) دے رکھی ہیں۔ اور ہمارا المیہ دیکھیے کہ ہم، خدا کے باغی نظام کی عطا کردہ ان حقیر رعایات کو پا کر نہ صرف خوش ہیں، بلکہ ہمارا ایمان اسی غلبہ کفر کو اصول تسلیم کر کے سوچتا اور سانس لیتا ہے۔
ایک طویل عرصے تک اس امت کے ضمیر کو یہ افیون پلائی گئی کہ تم شہادت توحید زبان سے ادا کرنے کے بعد، اپنے عملی اور تہذیبی رویوں میں خواہ کتنے ہی سیکولر اور لبرل ہو جاؤ، نہ تمہارے اسلام پر کوئی آنچ آئے گی اور نہ نجات کو خطرہ ہوگا۔ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَيَّامًا مَعْدُوْدَةً!
اسی جھوٹی تسلی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اسلام کا نام لے کر بڑی آسانی سے سود، بے حیائی، صارفیت، اور سرمایہ دارانہ ظلم کو اپنی زندگیوں میں ضم کر لیتے ہیں۔ ہمیں شرمندگی تو درکنار، احساس تک نہیں ہوتا کہ جن مقاصد میں ہم اپنی جوانی، اپنا مال، قابلیت اور راتوں کی نیندیں جلا رہے ہیں، وہ حقیقت میں اسی ایمان کی ضد ہیں جس کا ہم صبح و شام ورد کرتے ہیں۔ اگر ہم خود کو اسی طرح دھوکہ دیتے رہے، تو اسلام کے دائرے میں آنے والے نئے لوگ بھی کوئی انقلاب نہیں لائیں گے۔ وہ جو اس گندے تالاب میں آئے گا، وہ بھی اس اندھی تقلید اور منافقت کا شکار ہو کر اپنی موت آپ مر جائے گا۔
ہماری اس پکار میں درد ہے، حسرت ہے اور خوفِ خدا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس امت کی زندگی میں ایک زلزلہ بپا ہو۔
ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ انسان کا ظاہر و باطن ‘حنیف’ ہو! وہ یکسو ہو کر اللہ کا ہو جائے۔ زندگی پچرنگی یا دورنگی نہ ہو، بلکہ سر سے پاؤں تک مکمل طور پر “صبغۃ اللہ” (اللہ کے رنگ) میں رنگی ہو۔ ہماری روح کی تاریں جھنجھنا اٹھیں اور ہم یہ عزم کریں کہ ہم اپنی زندگی کے کسی ایک چھوٹے سے شعبے میں بھی، کسی چھوٹے سے نفسیاتی خوف یا مفاد کی خاطر بھی، حق کے خلاف کسی دوسرے نظام کا تسلط، کسی دوسری تہذیب کا غلبہ برداشت نہیں کریں گے۔
بندگی رب کا مفہوم ہی یہی ہے کہ جو ہر اس زنجیر کو کاٹ دے جو قدموں میں بیڑیاں ڈالتی ہو… اور جو کٹ نہ سکے، اس کے خلاف انسان مرتے دم تک تڑپتا اور لڑتا رہے۔ بیداری کی شرطِ اول یہی ہے کہ تمہیں کم از کم اس بات کا شدت سے احساس ہو جائے کہ تم واقعی قید میں ہو۔