یہود و نصاریٰ سے دوستی: ایک لمحہ فکریہ! (ایران کاحوصلہ اورعالم اسلام )
محمد عبدالحفیظ اسلامی،
سنیئر کالم نگار و خطیب مسجد صالحہ قاسمؒ
9849099228
یہود ونصاریٰ،اہل کتاب میں ضرور شامل ہیں! جنہیں، بندگی رب کا راستہ بتلانے والی کتب عطا کی گئی تھی۔ ان میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام ”تورات“ کے ساتھ تشریف لائے اور اس کتاب کو یہودیت میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہےان میں دوسرے (عیسائی) نصاریٰ کے لیئے اللہ تعالی نے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”انجیل“دے کر بھیجاتاکہ ان کے لیے ہدایت کاسامان ہوجاے۔لیکن یہ آسمانی کتابیں، اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن مجید کے نزول کےساتھ ہی منسوخ ہوچکیں ! اسطرح حضرت موسؑیٰ اور حضرت عیسؑیٰ اور ان پر اتری مذکورہ کتابوں کا ذکرقرآن کریم میں بہ کثرت و تفصیل سے ہمیں ملتا ہے، لیکن ان دونوں قوموں کے واقعات میں سب سے زیادہ (اللہ کی) نافرمانی میں ڈوبی ہوئی قوم کی حیثیت میں جسکا ذکر بار بار آیا ہے وہ یہودی ہیں، جسے قرآن ان کی اصل ”بنی اسرائیل“ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ انکےاپنےانبیاءکے ساتھ انکی زیادتیوں شرارتوں اور اذیتیں پہچانے کا ذکر کرتے
ہوئے ،اللہ کے ساتھ ان کی نافرمانیوں، عہد شکن اعمال کی پاداش میں، مختلف مواقع پر نزول عذاب ، اور انہیں دی گئی سزاؤں کا بھی بہت واضح طور پر ذکر کرتاہے۔ بنی اسرائیل کی یہ تاریخ رہی ہے کہ یہ ہمیشہ سے اہل اسلام سے بغض وحسد اور کینہ”Malice”رکھتے چلے آئے ہیں، اللہ کے آخری نبیؐ سے دشمنی ،بد عہدی اور اسلام سے عداوت انکی زندگی کا اہم ایجنڈا رہا ہے، گزشتہ کئ دہائیوں سے گریٹر اسرائیل (Greater Israel) کا مکروہ خواب اپنے سینے میں لیے، (صیہونی منصوبے) کے تحت فلسطین میں یہودی آباد کاری میں سرگرم عمل رہے اوراس (ناجائز مملکت) اسرائیل کی حدود اربعہ روز بروز پھیلتی جارہی ہیں۔ اسطرح وہاں کے حقیقی باشندوں کو مہاجرین جیسی زندگی گزار نے پر مجبور کیا گیا، اور آج بھی دنیا میں طرح طرح کی سازشوں اور مکرو فریب اور گٹھ جوڑ کے ساتھ مسلمانان عالم کے لئے راہیں تنگ کرنے کی فراق میں یہ سرگرم عمل ہیں، اورانکے ہم خیال وہم فکر، صاحب اقتدار لوگ انکی ہمت افزائ کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے؛ اس کا اندازہ اقوام متحدہ کی جرنل اسمبلی میں1967تا 2024ء تک اسرائیل کے خلاف یا فلسطین کے حق میں جتنے بھی قرار دادیں منظور ہويئں خاص طور پر 13ستمبر 2025 میں(142) ووٹ کی اکثریت سے فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے مطالبہ اور دوریاستی حل کے لیے بھاری اکثریت سے قرار دواد منظور کی گئ تھی، اور یہ امید کی جارہی تھی کہ اب فلسطینی عوام کی مشکلات کے دن ختم ہوں گے لیکن افسوس،اس اکثریتی قرارداد کا جو کچھ حشر ہوا آج بھی جگ ظاہر ہے۔۔۔۔۔۔!؟!؟ یاد رہے کہ اس قرارداد کے پیش کئے جانے کے موقع پر 164رکنی اسمبلی میں 12 (غیر حاضر ارکان کو چھوڑ کر)10ممالک نے مخالفت کی ان ارکان میں شامل اسرائیل و امریکہ نمایاں Noticeable رہے ہیں
غرضکہ ان اہل کتاب سے معاشرتی معاملات میں کس طرح کا برتاؤ کیا جانا چاہیے اس بارے میں مسلمانوں کو لمحہ فکر یہ اور یہ تعلیم دی گئی کہ،
“اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی
ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کاشمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے،،
(ترجمانی سورہ مائدہ آیت 51)
مذکورہ بالاآیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ چار بنیادی باتیں بیان فرمائے ہیں۔
(1) ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو رفیق نہ بناؤ۔
(2) یہود و نصاری تو یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
(3) جوکوئی بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی دوستی کی چکر میں پڑا اس کا شمار انہی میں ہے۔
(4) اللہ تعالیٰ ظالموں کو سیدھی راہ نہیں بتاتا۔
یہودی و نصرانی اور مشرکوں سے دوستی کرنے میں بڑی باریک بینی Discernment اورPrudence احتیاط وعقلمندی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بغیر اہل ایمان کی امت وحدت Solidarity of the Muslim Communityاور اسلامی اجتماعیت کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہتاہے۔کیونکہ باطل پرست لوگ ہراس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جس میں اسلام و اہل اسلام کو نقصان پہنچے۔۔۔۔۔۔!
اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف موقوں پرحسب ضرورت ،خاص طور پر اہل ایمان کا نام لیتے ہوئے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ مشرکین وغیرہ سے ہمیشہ چوکنا و ہوشیار رہتے ہوئے،اِنہیں اپنا ہمراز Confidant نہ بنائیں اور نہ ہی ان کو اپنا رفیق Close Friend بنائیں۔
آج مسلمان کہلائے جانے والے بعض حکمراں جن کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور ہے اور اللہ نے جنہیں مال ودولت سے خوب نوازا ہے، یہ لوگ اہل کتاب کے متعلق یہ گمان بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ، ان کے ساتھ مل کر ہم دوستی کریں تو دنیا میں خوب ترقی کریں گے/ کرسکیں گے اور انکے ہمارے درمیان جو کچھ ٹکراؤ ہے وہ بھی ختم یا کم ہوجائےگا وغیرہ ۔ یعنی ان کی یہ محض دل فریبی و خوش گمانی ہے کہ، اس طریقہ سے دنیا میں مسلم امت کے لئے ماحول ساز گار ہوجاے گا، اس لئے کہ یہ بھی ایک کتاب والی امت (ابراہیمی نسل کے حصے) سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ یعنی یہ اللہ کی کتاب کے حامل بھی ہیں وغیرہ۔ افسوس ہے ان کی سادہ لوحی ،غفلت شعاری یا دنیا پسندی پر کہ اسی فکر نامفید کو آگے بڑھاتے ہوے، (خوش فہمی میں مبتلا) ان لوگوں نے ؛ دشمنان اسلام سے دوستی کی اور خوب دوستی کی، پچھلے چالیس پچاس برس میں تو انکی دوستی کی انتہا ہوچکی٠٠٠! پچھلے کئی دہائیوں میں ان اہل کتاب اور انکے ہمنواؤں کے ہاتھوں جانی ومالی نقصان اٹھانے کے باوجود ان کی آنکھیں ابھی بھی نہیں کھلی ہیں۔ اب اسکی یہ انتہا ہوچکی کہ گزشتہ چند سالوں سے تا حال اپنے بھائیوں کے خون کو بہتا دیکھ کر بھی انکا شعور و ضمیر بیدار نہ ہوا، اور اب بھی آئے دن ان بے گناہ جانوں کا لہو پانی کی طرح بہہ رہا ہے، یہ سب ان ہی اہل کتاب کی مکروہ سازشوں کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔!
بالائ سطور میں جو آیت مبارکہ پیش کی گئی ہے اس کے علاوہ قرآن مجید میں ٹھیک اسی طرح آٹھ مقامات پر یہی بات مختلف انداز میں اپنے موقع کی مناسبت سے آئی ہے۔ جس میں ان کے برے کرتوتوں کی داستان بھری پڑی ہے جو ہمارے لئے درس عبرت اور لمحہ فکر یہ
ہے ۔سورۃ آل عمران آیت 100 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم نے ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی، تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔
اسی سورۃ کی آیت 118 میں فرمایا ’’ اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا رازدارنہ بناؤ۔
اسی سورۃ کی آیت 149 میں فرمایا ’’اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے‘‘
سورۃ نساء آیت 144 میں فرمایا ’’اے ایمان والو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔
سورۃ المائدۃ آیت 57 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے پیشرو اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنالیا ہے انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ‘‘۔
سورۃ توبہ آیت 23 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں‘‘۔
سورۃ الممتحنہ آیت1 میں فرمایا ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کیلئے اور میری رضا جوئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ‘‘۔
اسی سورۃ کی آیت 13 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان لوگوں کو دوست نہ بناو جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے‘‘۔
غرض کہ مضمون ہذا کے اصل عنوان میں جو آیت پیش کی گئی ہے اس میں وہی بات آرہی ہے کہ اے ایمان والو دیکھو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔
شان نزول
ایک روایت میں ہے کہ یہ آیات عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں، ان آیات کی شان نزول میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت انصاریؓ اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی دونوں ہی عہد جاہلیت سے یہود کے حلیف چلے آرہے تھے۔
جب بدر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو عبداللہ بن ابی نے بھی اسلام (قبول کرنے) کا ’’اظہار‘‘ کیا۔ ادھر بنو قینقاع کے یہودیوں نے تھوڑے ہی دنوں بعد فتنہ برپا کیا یعنی (حضور ﷺ سے جنگ کی) اور خدا نے انہیں نیچا دکھادیاتو عبداللہ بن ابی (ظاہری مسلمان) تو ان کی حمایت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا یعنی یہودیوں کو بچانے کی ہر ممکن کوششیں کی۔ اس کے برعکس (مخلص مسلمان) حضرت عبادہ بن صامت انصاریؓ نے باوجود یہ کہ یہ بھی ان یہودیوں کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برات ظاہر کی۔ یعنی معاہدہ ختم اور ترک موالات کا اعلان کردیا۔
رئیس المنافقین
عبداللہ بن ابی بن سلول جو کہ جنگ بدر کے بعد اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا لیکن اس کا اسلام لانا،مسلمان ہونا ظاہری تھا اور اس کے دل میں اسلام، مسلمان، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں اتری تھی مگر اپنے مسلمان ہونے کا دعوی کیا کرتا تھا تو دوسری طرف یہود سے اس کی گہری دوستی تھی صرف عبداللہ بن ابی ہی نہیں بلکہ اس کے پیرو (دیگر منافقین ) کا بھی یہی کچھ رویہ تھا۔
” فرمان خدا تعالیٰ “
ایسے حالات میں احکام خدا وندی کا نزول ہورہا ہے کہ اے ایمان والو یہود و نصاری کو اپنا رفیق نہ بناؤ، کیونکہ یہ تمہارے دوست، رفیق و ہمراز قنہیں ہوسکتے اصل میں یہ صرف اپنے حلقوں تک ہی دوستی کا حق ادا کرتے ہیں یعنی یہودی یہودی کے درمیان۔ نصاری، نصاری کے ہی دوست ہوسکتے ہیں۔ اور یہ کہ یہود و نصاری اسلام کے خلاف متحد ہیں ، پھر کس طرح تمہارا ان کا میل جول ہوسکتاہے جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ اسلام کو مٹانے دعوت حق کودبانے، اسلامی ترغیب و تحریک کو ختم کرنے کیلئے رات دن سازشیں کیا کرتے ہیں۔ لہٰذا آیت کے اس فقرے میں اہل ایمان کو حکم دیا جارہا ہے کہ یہود و نصاری سے مناسب فاصلہ رکھیں ( گاڑھی دوستی نہ کریں) ابتک جو موالات تھے اسے ترک کریں۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیراحمد عثمانیؒ اس سلسلہ میں ایک اہم نکتہ Key point تحریر فرماے ہیں کہ، ’’مروۃ“ اور ’’حُسن سلوک“ یا’’رواداری‘‘ کا برتاؤ ان کفار کے ساتھ ہوسکتا ہے جو جماعتِ اسلام کے مقابلہ میں دشمنی اور عناد کا مظاہرہ نہ کریں۔ جیسا کہ سورۃ ’’ممتحنہ‘‘ میں اس کی تصریح ہے۔ (اقتباس تفسیر عثمانی)
مزید تفصیل کیلئے راقم کی کتاب ”آداب بندگی“ سورۃ النساء کی آیات 144 تا 145 میں تفصیلی طور پر تحریر کیا گیا علاوہ ازیں سورۃ ال عمران میں بھی اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔
(یہود و نصاری سے دوستی کا انجام)
آخری بات یہ فرمائی گئی کہ جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کی تو ان کا شمار بھی ان ہی (یہود و نصاری ) میں ہوگا۔
یہاں پر عام حکم دیا جارہا ہے کہ، اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے! آیت کے آخر میں ایک اہم بات یہ بھی بتائی گئ کہ” یقیناً اللہ ظالموں کواپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے“۔ یعنی اتنی ساری تفصیلات بیان کرنے کے بعد بھی جو کوئی پھر ان یہود و نصاری سے (گاڑھی) دوستی کرے گا ، ان کی دوستی میں اپنی خیر اور فلاح و کامیابی تصور کرے گا، اسلامی طاقت اور رسالت کی عظمت کا اندازہ نہیں کرے گا، اسلام کے دامن رحمت میں، جسے فلاح و کامیابی دکھائی نہیں دیتی، مختصر یہ کہ اللہ کی پناہ ڈھونڈنے کے بجائے یہود و نصاری کی دوستی میں اور ان سے قلبی لگاو رکھنے میں اپنی خیر و عافیت تصور کرتا ہے تو، دراصل ایسا شخص (یا گروہ) ظالم ہے، اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ اپنی رہنمائی سے محروم کردیتے ہیں ، پھر اس کے بعد ایسے لوگوں کو اپنا (اوراپنی ملت کا) حقیقی نفع و ضرر دکھائی نہیں دیتا وہ گمراہی میں بہت دور نکل جاتا ہے
انکی بز دلی اور انکے اندر پنپنے والے خدشات کا ذکر یوں ہوا کہ”فَتَرَی الَذِینَ فِی قُلُوبِھِم٠٠٠٠٠تُصِیبَنَادَآئِرَۃُٗ“ (آیت 52) تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ”ہمیں ڈرلگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں“
اس سلسلہ میں مولاناسید ابوالاعلی مودودیؒ کے قلم سے ایک اقتباس پیش ہے،
”اس لیے مسلمانوں میں جو لوگ منافق تھے وہ اسلامی جماعت میں رہتے ہوے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی ربط وضبط رکھنا چاہتے تھے تاکہ یہ کشمکش اگر اسلام کی شکست پر ختم ہوتو ان کے لئے کوئ جائے پناہ ,Refuge, محفوظ رہے۔ (تفہیم القرآن)
”مخلص اہل ایمان“
حقیقی اہل ایمان ( صحابہ کرام رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین) نے دین اسلام کو دل سے قبول کیا، اللہ ہی کو اپنا حامی و مددگار جانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کو نہ چھوڑا دین اسلام پر ہی مرمٹے، تو اللہ نے بھی دنیا و آخرت کی کامیابی کو ان کے نظروں کے سامنے کھڑا کردیا یعنی ان کے صالح اعمال نے ان کے اندر ایک یقین کی کیفیت پیدا کردی یہاں تک کہ مکہ فتح ہوگیا، باطل مٹا اور حق غالب آگیا۔
(حاصل کلام)
آیت مبارکہ کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان: یہود و نصاری کو اپنا رفیق نہ بنائیں۔ رفیق سے مراد ان سے گاڑھی دوستی نہ کریں۔ جس طرح اہل ایمان اپنے درمیان رکھتے ہیں اور نہ ہی ان لوگوں سے قلبی لگاؤ رکھیں جس طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے رکھتا ہے اور نہ ہی ان یہود و نصاری و دیگر خدا کے باغی لوگوں سے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات، مسائل و تنازعات کی یکسوئی کیلئے رجوع کریں۔
موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان یا مسلم ممالک کے اندرون جو کچھ مسائل اُبھر رہے ہیں۔ جو کچھ تنازعات چل رہے ہیں اس کی یکسوئی کیلئے یہود و نصاری، منکرین حق و خدا بیزار قوموں کی طرف رجوع ہونا، اس بات کا مظہر ہے کہ مسلمان اپنے اس طرز عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ ہم اپنے مسائل و تنازعات آپس میں حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جبکہ اہل ایمان کو یہ تاکیدکی گئی ہے کہ ’’تمہارے درمیان کچھ جھگڑے وقوع پذیر ہوں یا فکر و نظر میں اختلاف پایا جاتا ہو یا تمہارے درمیان کسی معاملہ میں رائے منقسم ہوجائے تو ان صورتوں میں اپنے مقدمات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیردو اور اس کے لئے آپسی مشورہ سے کسی کو بڑا بنالو اور یہاں سے جو بھی فیصلہ ہوجائے ملت اسلامیہ کی بھلائی اور اسلام کی نیک نامی اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ کہ آخرت کی سرخروئی کیلئے اسے سربسر قبول کرلیا جائے۔ یہی اسلام کی پکار ہے اور یہ وقت کا تقاضا بھی ہے۔ مختصر یہ کہ حالات حاضرہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانان عالم کے لئے، یہ بات اشد ضروری ہے کہ مسلک سے ہٹ کر مقصد پر توجہ دی جائے،کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کی بنیاد پر غور کرتے ہوئے فیصلہ کریں کہ ہمارا اصل سامنا کس سے ہے اصل دشمن کون ہے؟ اب جو کشمکش ”اسرائیل امریکہ“ اور ایران کے درمیان جاری ہے اب تقریباً دیڑھ مہینے بعد دنیا کی ایک بڑی طاقت جنگ بندی کے لئے بات چیت کے میز پر آئی ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہی لوگ سر اٹھا کر جی سکتے ہیں جو زیادتی کرنے والوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں!!!، یہ اور بات ہیکہ جنگ بندی کے لئے 21 گھنٹے چلی گفتگو ومزاکرات سے فریقین کسی حتمی ماہدے
,,Definitive Agreement,,
تک نہیں پنہچےمگر ابھی دوبارہ اس پر غور فکر کرتے ہوے کسی قطعی فیصلہ کی طرف آگےبڑھنے کی بہت گنجائش باقی ہے، خدا کرے یہ بات چیت کامیاب ہو جاے کیونکہ قوموں اور پڑوسی ملکوں کے درمیان امن کا قائم رہنا نوع انسانی کی بقا وسلامتی کی ضمانت Safety Assurance ہے! حالات کے تناظر میں عالم اسلام کو سبق حاصل کرناہے، خاص طور پر خلیجی ممالک کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایران سے بہت کچھ سیکھیں،جس نے اپنا حوصلہ ساری دنیا کے سامنےرکھ دیا۔ انہوں نے دنیا بھر کی تمام تر پابندیوں اور رکاوٹوں کی پرواہ کئے بغیر اپنی محنت شاقہ سے اپنے کو مضبوط بنالیا ،عیش عشرت ، شباب کباب؛ رقص وسرور کی محفلوں اور فضول خرچی کی زندگی سے ممکنہ حد تک مجتنب رہے، تو پھر اللہ کی مدد بھی انکے شامل حال ہوئی۔ جسے دنیا حیرانی سے دیکھ رہی ہے۔ اللہ سے دعا کریں کہ یہ جنگ جلد سے جلد ختم ہوجائے تا کہ نوع انسانی کی جانیں اور قیمتی اسباب زندگی Valuable Assets of Life محفوظ رہ سکےاور دنیا میں لوگ امن کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔
