This is a demo store for testing purposes — no orders shall be fulfilled. Dismiss
Skip to content
بابری مسجد پر ہندوؤں نے قبضہ کیا ، مسلمانوں نے احتجاج کیا ۔
مسلم مخالف CAA اور NRC بل آیا احتجاج کیا ۔
ٹرپل طلاق پر احتجاج کیا ۔ UCC پر اجتجاج ،
حجاب پر احتجاج ، کبھی آذان پر پابندی پر احتجاج ، کبھی لاؤڈ سپیکر پر پابندی ۔
کبھی گائے کے نام پر مسلمانوں کی قتل وغارت پر احتجاج ، کبھی قبرستان پر قبضہ کبھی صدیوں پرانی عید گاہ ، مسجد پر قبضہ ۔
اسلام مخالف وقف ترمیمی قانون پر احتجاج جاری ہے ، کبھی جنتر منتر ، کبھی شاہیں باغ ۔ یوں ان احتجاج میں مسلم کش فسادات ہوئے ، ہزاروں مسلمان مارے گئے ، ہزاروں زخمی ہوئے ، ہزاروں بے گناہ جیلوں میں گئے، سینکڑوں UAPA قانون میں جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں ۔ کب تک احتجاج کرتے رہو گے ؟ آج اس قانون کا احتجاج کل دوسرے قانون کا ؟ ایسا کب تک چلے گا ؟
آج 75 سال بعد انڈین مسلمان اپنی سیاسی نااہلی کی وجہ سے دو نمبر شہری بن کر رہ گئے ہیں ۔ کوئی پرسان حال نہیں ۔
کیوں نہیں مسلمانوں نے ملک کے نظام میں ، پارلیمنٹ میں دیگر اداروں میں اپنی حصہ داری مانگی ؟
دوسروں کو ہی ووٹ دیتے چلے آئے ۔ کبھی اس سیاسی جماعت کا آسرا کبھی دوسرے کا آسرا ۔ اپنی سیاسی جماعت نہیں بنائی ۔
اگر مسلم سیاسی جماعت AIMIM صدر اسد اویسی جیسا کوئی الیکشن میں آتا ہے تو ناسمجھ مسلمان دوسروں کے پراپیگنڈے کے زیر اثر ہو کر اس قابل شخص اویسی کو BJP کی B -Team کہہ کر یا ووٹ کٹوا کہہ کر اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔ الیکشن میں ساتھ نہیں دیتے ۔ نہ ہی اس کے نمائندوں کو ووٹ دیتے ہیں ۔
اب بھی وقت ہے تمام مسلمان اپنے مذھبی ، علاقائی اختلافات بھلا کر ایک سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں ۔ اسد اویسی کی AIMIM بہترین پلیٹ فارم ہے ، اس پارٹی کو ووٹ سپورٹ کرو۔ تاکہ انڈین پارلیمنٹ میں ، انتظامیہ میں ، عدلیہ میں 30 کروڑ مسلمانوں کی نمائیندگی ہو سکے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ۔
نہیں تو اگلے 100 سال احتجاج کرنے میں ہی گزرے گی۔ مشکلات بڑھیں گی ۔ کہیں شنوائی نہیں ہوگی ۔
مسلمانوں کے مسائل کا حل تمام پارلیمنٹ ، تمام اداروں میں نمائندگی ہی ہے ۔ اپنا حصہ ، اپنی سیٹیں آبادی کے حساب سے لینا ہونگی ۔