
اسلام نے ایک ایسا نظامِ سیاست عطا کیا جس میں آسمانی ہدایت اور انسانی آزادی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی خلافت نہ تو مغربی جمہوریت کی طرح انسان کو مطلق حاکم بناتی ہے، اور نہ بادشاہت و آمریت کی طرح چند خاندانوں یا جرنیلوں کو قوموں کی گردنوں پر مسلط کرتی ہے۔ اسلام نے ایک ایسا متوازن نظام پیش کیا جس میں حاکمیت اللہ کی اور حکومت عوام کی رضا سے قائم ہوتی ہے۔ یہی دراصل اسلامی جمہوریت ہے۔
قرآن اعلان کرتا ہے:
“وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ”
مسلمانوں کے اجتماعی معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوں گے۔
یہ آیت صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا آئینی اصول ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کسی شخص، خاندان، فوج یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ طاقت کے زور پر اقتدار پر قابض ہو جائے اور پھر خود کو “خلیفہ” کہلوائے۔ اسلام میں اقتدار تلوار کی نوک سے نہیں بلکہ عوام کی آزادانہ رضا سے وجود میں آتا ہے۔ جو شخص جبر، دھونس یا موروثی حق کے نام پر حکومت حاصل کرے، وہ اسلامی اصطلاح میں خلیفہ نہیں بلکہ غاصب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلافتِ راشدہ انسانی تاریخ کی پہلی حقیقی عوامی اور اخلاقی حکومت تھی۔ وہاں نہ خفیہ ڈیلیں تھیں، نہ موروثی تاج، نہ بندوقوں کے سائے، نہ فوجی بغاوتیں۔ ہر خلیفہ کسی نہ کسی صورت میں امت کے اعتماد، مشورے اور بیعت سے منتخب ہوا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین و انصار کے مشورے سے ہوا، پھر مسجد نبوی میں عام مسلمانوں نے آزادانہ بیعت کر کے ان کی خلافت کو قبول کیا۔ اگر اسلام آمریت یا ملوکیت سکھاتا تو نبی ﷺ کے وصال کے فوراً بعد کوئی خاندان تلوار کے زور پر اقتدار سنبھال لیتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ امت نے خود اپنا حکمران منتخب کیا۔
حضرت عمر فاروقؓ کو حضرت ابوبکرؓ نے نامزد ضرور کیا، مگر ان کی خلافت اس وقت قائم ہوئی جب مسلمانوں نے برضا و رغبت اسے قبول کیا۔ اگر امت انکار کر دیتی تو محض نامزدگی کافی نہ تھی۔
حضرت عثمانؓ کے انتخاب میں تو اسلامی جمہوریت اپنی بلند ترین شکل میں نظر آتی ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے مدینہ کی گلی گلی جا کر لوگوں کی رائے معلوم کی، حتیٰ کہ پردہ نشین خواتین سے بھی مشورہ کیا۔ پھر اکثریتی رجحان کے مطابق حضرت عثمانؓ کا اعلان کیا گیا۔ دنیا آج جس “عوامی سروے” اور “مشاورتی سیاست” پر فخر کرتی ہے، اسلام نے وہ اصول چودہ سو سال پہلے دے دیے تھے۔
حضرت علیؓ نے تو یہاں تک فرمایا کہ میری بیعت خفیہ نہیں ہو سکتی، بلکہ مسلمانوں کی رضائے عامہ سے ہونی چاہیے۔ گویا خلافت کوئی شخصی حق نہیں بلکہ امت کی امانت تھی۔
اسلامی جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ یہاں حکمران عوام کا مالک نہیں بلکہ خادم ہوتا ہے۔ مغربی جمہوریت میں پارلیمنٹ چاہے تو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دے، کیونکہ وہاں اقتدارِ اعلیٰ انسان کے پاس ہے۔ مگر اسلام کہتا ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ صرف اللہ کو حاصل ہے۔ عوام اپنی مرضی سے ایسے نمائندے منتخب کرتے ہیں جو اللہ کے قانون کو نافذ کریں، نہ کہ اپنی خواہشات کو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی خلافت میں خلیفہ بھی قانونِ الٰہی کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے
یہی وہ فرق ہے جو اسلامی جمہوریت کو مغربی سیکولر جمہوریت سے ممتاز کرتا ہے۔ مغرب کہتا ہے:
“لوگ جو چاہیں قانون بنا لیں۔”
اسلام کہتا ہے:
“قانون اللہ کا ہوگا، مگر حکمران عوام کے مشورے اور اعتماد سے منتخب ہوں گے۔”
اسی لیے اسلام میں حکمران تنقید سے بالاتر نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت سنبھالتے ہی فرمایا:
“اگر میں سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دینا، اور اگر ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کر دینا۔”
سوچیے! دنیا کے کس بادشاہ، آمر یا ڈکٹیٹر نے اقتدار سنبھالتے وقت عوام کو یہ حق دیا کہ اگر میں غلط ہو جاؤں تو مجھے روک دینا؟ یہی اسلامی سیاست کا وہ اخلاقی جلال ہے جس نے رعایا کو غلام نہیں بلکہ باشعور امت بنایا۔
اسلام عہدوں کی ہوس کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہم حکومت اس شخص کو نہیں دیں گے جو اس کا حریص ہو۔ کیونکہ اسلام میں حکومت عزت نہیں بلکہ امانت ہے، اقتدار نہیں بلکہ جواب دہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافتِ راشدہ میں حکمران اقتدار کے طلبگار نہیں بلکہ ذمہ داری سے خوفزدہ ہوتے تھے۔
اس کے برعکس جب امت نے شورائیت کو چھوڑ کر ملوکیت اختیار کی تو خلافت رفتہ رفتہ بادشاہت میں بدل گئی۔ بیعت رضا کی علامت کے بجائے جبر کا ہتھیار بن گئی۔ تلواریں بولنے لگیں، خاندان مقدس بن گئے، اور امت کی رائے دبتی چلی گئی۔ یہی وہ انحراف تھا جسے فقہائے اسلام نے “خلافتِ راشدہ” کے بجائے “ملوکیت” قرار دیا۔
لہٰذا جو لوگ اسلام کو آمریت کا مذہب ثابت کرنا چاہتے ہیں، وہ یا تو اسلامی تاریخ سے ناواقف ہیں یا دانستہ حقائق کو چھپا رہے ہیں۔ اسلام کا اصل سیاسی ماڈل خلافتِ راشدہ ہے، جہاں حاکم عوام کی رضا سے آتا ہے، قانون اللہ کا نافذ ہوتا ہے، حکمران جواب دہ ہوتا ہے، اور امت کو احتساب کا حق حاصل ہوتا ہے۔
یہی وہ نظام ہے جس میں نہ سرمایہ دار اشرافیہ کی آمریت ہے، نہ فوجی بوٹوں کی حکومت، نہ خاندانوں کی بادشاہت، بلکہ تقویٰ، شوریٰ، عدل اور عوامی امانت کی حکمرانی ہے۔ یہی اسلامی جمہوریت ہے۔
