Nowadays, cases of divorce and separation are increasing=آج کل خلع اور طلاق کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے،

توجہ ایک بہت اہم سوال

سوال:

میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ آج کل خلع اور طلاق کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین اب گھریلو ذمہ داریاں سنبھالنے (یعنی ہاؤس وائف بننے) کی طرف کم مائل ہو رہی ہیں۔ اب ہاؤس وائف کا کردار خود ایک تنازعہ (clash) کی وجہ بنتا جا رہا ہے، کیونکہ آج کی عورت گھریلو معاملات سنبھالنے میں شدید دباؤ محسوس کرتی ہے، اور اس کے بدلے میں اسے وہ قدر (value) نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔

آپ ماشاءاللہ شعور اور آگاہی کے لیے اچھی کوشش کر رہے ہیں، اسی لیے میں یہ نکتہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ایک عام عورت جو بارہویں یا چودہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرتی ہے اور پھر شادی کے بعد گھر سنبھالنا شروع کر دیتی ہے، اسے اپنی خدمات کی اصل قدر نہیں ملتی۔ اگر ایک گھریلو خاتون اکیلے پورا گھر سنبھال رہی ہو تو وہ بیک وقت ایک شیف، ڈے کیئر ایکسپرٹ، سیکیورٹی گارڈ، ملازمہ، ماسی، مشیر، اور بعض اوقات ڈرائیور کا کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔

اگر انہی تمام کاموں کو مارکیٹ میں الگ الگ لوگوں سے کروایا جائے تو ہر ایک کی ابتدائی تنخواہ کم از کم 25 ہزار روپے ہو سکتی ہے، یعنی مجموعی طور پر ایک گھریلو خاتون تقریباً 125,000 روپے کے برابر کام اکیلے کر رہی ہوتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اس بچت (saving) اور خدمات کو نہ تو معاشی قدر دی جاتی ہے اور نہ ہی سماجی طور پر اسے سراہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہی خاتون باہر جا کر 125,000 روپے کی نوکری کرے تو اسے زیادہ قدر دی جاتی ہے۔

یہی “قدر نہ ملنا” نئی نسل کی خواتین کو خاندانی نظام میں فعال کردار ادا کرنے سے دور کر رہا ہے—جیسے بچوں کی پرورش، تربیت، خدمت اور گھر کی بنیاد مضبوط کرنا۔ اس کے بجائے وہ صرف ایک رسمی شادی
(for the name of marriage)

کر کے الگ معاشی زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہی ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ گھریلو کردار میں ان کی خدمات کو اہمیت نہیں دی جائے گی۔

یہ رجحان خاندانی نظام کے ٹوٹنے کا سبب بن رہا ہے، اور شادی کو ایک مضبوط ادارے کے بجائے صرف ایک ساتھ رہنے
(cohabitation)
کے تعلق میں تبدیل کر رہا ہے۔

میرا سوال یہ ہے:

اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہم کیسے گھریلو خاتون کے کردار کو اس کا جائز مقام اور قدر دے سکتے ہیں؟ اور کس طرح خاندانی نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے، جبکہ اقامتِ دین کے لیے ایک مضبوط خاندان اور ماں کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے؟

اب آپ اس پر اپنی رائے دیں۔

جواب:

میں آپ کی اس دردمندی اور گہری سوچ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ آپ نے جس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے اور موجودہ خاندانی نظام
(Family Unit)
کے بکھرنے کی جو جڑ تلاش کی ہے، وہ بالکل سو فیصد درست اور جدید معاشرتی المیے کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

بات سمجھنے کے لیے پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب ڈھونڈنا ہوگا — یہ سوچ آئی کہاں سے کہ گھر میں رہنا ذلت ہے اور دفتر میں جانا عزت؟

یہ سوچ نہ فطرت کی دین ہے، نہ دین کی۔ یہ اس سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے جسے فیکٹریوں کے لیے سستی محنت چاہیے تھی۔ سید قطب شہیدؒ نے دہائیاں پہلے لکھا تھا کہ سرمایہ داروں نے “آزادی” اور “خود مختاری” کا ایسا جادو پھونکا کہ عورت اپنی گود کی بادشاہت چھوڑ کر مشینوں کے سامنے کھڑی ہو گئی — اور سمجھتی رہی کہ وہ آزاد ہو گئی۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ ایک زنجیر سے نکل کر دوسری زنجیر میں جکڑ گئی۔ اس نظام نے انسان کی قدر کا صرف ایک پیمانہ مقرر کیا — پیسہ۔ جو پیسہ کمائے، وہ “productive”؛ جو گھر میں رہے، وہ “Just a housewife”۔ یہ صدی کا سب سے بڑا فریب تھا، اور ہم نے اسے بغیر سوچے قبول کر لیا۔

ملکہ کو تنخواہ دار ملازمہ بنانے کی سازش

اب جب اس فریب کا ادراک ہوا تو بعض لوگوں نے اس کا “حل” یہ نکالا کہ گھریلو عورت کی خدمات کی مالیت گنی جائے — شیف کی تنخواہ، آیا کی اجرت، مشیر کا معاوضہ — اور مرد سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ یہ سب ادا کرے۔

لیکن یہ “حل” دراصل مسئلے کی ایک اور شکل ہے۔ جب آپ عورت کے کردار کو روپوں میں تولتے ہیں تو آپ اسلام کے دیے ہوئے اس تصور کو تہ و بالا کر دیتے ہیں جس میں عورت گھر کی “ملکہ” ہے — ملازمہ نہیں۔ ملکہ کی کوئی تنخواہ نہیں ہوتی؛ پوری ریاست کے وسائل اس کی تصرف میں ہوتے ہیں۔ جب آپ ملکہ کو تنخواہ دار ملازمہ بنانے کا مشورہ دیتے ہیں تو دراصل آپ اس کا رتبہ گراتے ہیں، اٹھاتے نہیں۔

اسلامی فقہ نے یہ معاملہ بہت پہلے طے کر دیا تھا۔ نفقہ — یعنی روٹی، کپڑا، مکان اور علاج — شوہر کی ذمہ داری ہے، بیوی کا قانونی حق ہے۔ یہ بھیک نہیں، احسان نہیں — یہ فرض ہے۔ شریعت نے تو یہاں تک کہا کہ عورت چاہے تو اپنے بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ بھی شوہر سے مانگ سکتی ہے۔ یعنی اسلام نے عورت کو بازار میں جا کر اپنی خدمات بیچنے کی ضرورت سے ہمیشہ کے لیے بے نیاز کر دیا۔

خاندان — ایک ریاستِ صغریٰ

اسلام کی نظر میں خاندان محض دو لوگوں کا ساتھ رہنا نہیں — یہ ایک مکمل “ریاستِ صغریٰ” ہے، ایک چھوٹی سی مملکت جس کا اپنا نظم ہے، اپنا وزیرِ خارجہ ہے، اپنا وزیرِ داخلہ ہے۔ مرد باہر کی دنیا میں لڑتا ہے، کماتا ہے، تحفظ دیتا ہے — یہ اس کا جہاد ہے۔ عورت اس ریاست کا اندرونی نظام سنبھالتی ہے، اگلی نسل کی تربیت کرتی ہے، انسان بناتی ہے — یہ اس کا جہاد ہے۔ یہ تقسیم کسی مردانہ بالادستی کا نتیجہ نہیں، یہ فطرت کی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ عورت نسلِ انسانی کو آگے بڑھانے کی عظیم بائیولوجیکل ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ اگر اس سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ یہ بوجھ بھی اٹھائے اور ساتھ دفتر میں بھی مرد کے شانہ بشانہ کھڑی رہے — تو یہ مساوات نہیں، یہ ظلم ہے۔

جب دونوں نے ایک ہی محاذ سنبھال لیا تو دوسرا محاذ خالی ہو گیا۔ اور خالی گھروں سے ٹوٹے ہوئے بچے نکلے، بکھرے ہوئے خاندان نکلے، اور طلاق و خلع کا وہ طوفان اٹھا جو آج ہمارے سامنے ہے۔

بحران کی اصل جڑ — “میں” نے “ہم” کو نگل لیا

یہ بحران صرف معاشی نہیں، یہ فکری ہے۔ جب سے مغربی انفرادیت پسندی نے ہمارے گھروں میں قدم رکھا، “ہم” کا تصور مٹنے لگا اور “میں” غالب آنے لگا۔ اب ہر شخص اپنے معاشی استقلال کے زعم میں ہے، اپنی ذات کا مرکز خود ہے، اور دوسرے کو برداشت کرنا اس کی “خود مختاری” کے خلاف لگتا ہے۔ نکاح اب “نصف دین کی تکمیل” نہیں رہا — یہ ایک کانٹریکٹ بن گیا ہے جسے جب چاہیں توڑ دو۔ جبکہ اسلام کا تصورِ نکاح اس سے بالکل مختلف ہے — یہ دو افراد کا نہیں، دو خاندانوں کا، بلکہ ایک پوری تہذیب کا معاملہ ہے۔ اس میں مرد کا کمانا عبادت ہے اور عورت کا گھر بنانا عبادت ہے۔

راستہ — تین سطحوں پر

پہلی سطح: مرد کا رویہ

اس پوری بحث میں سب سے اہم تبدیلی مرد کے رویے میں آنی چاہیے۔ جب عورت دن رات محنت کرے اور اس کے بدلے میں شوہر کہے “تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟” — تو اس کی روح مر جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سنت یہ تھی کہ آپ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ آج کے مرد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی بیوی کی یہ 24 گھنٹے کی بے اجر ڈیوٹی احسان نہیں — یہ وہ بنیاد ہے جس پر اس کا گھر کھڑا ہے۔ اس کا اعتراف کرنا، زبان سے تعریف کرنا، جذباتی تحفظ دینا — یہ اسلامی ذمہ داری ہے، اور خاندان بچانے کا پہلا قدم۔

دوسری سطح: معاشی تحفظ کا عملی نفاذ

عورت کا دفتر کی طرف جانا اکثر اس خوف سے بھی ہوتا ہے کہ کل کو کیا ہوگا؟ اس خوف کا علاج یہ ہے کہ مہر، نفقہ اور وراثت کے اسلامی حقوق دیانتداری سے ادا کیے جائیں، اور شوہر بیوی کو ایک معقول رقم اس کے ذاتی استعمال کے لیے دے — جس کا کوئی حساب نہ مانگا جائے۔ جب عورت کو اپنا معاشی مستقبل محفوظ نظر آئے گا تو وہ خوف کی بجائے محبت سے گھر کا کردار ادا کرے گی۔

تیسری سطح: بیانیے کی تبدیلی

سب سے دیرپا تبدیلی وہ ہے جو ذہنوں میں آتی ہے۔ ہمیں اپنے نصاب، میڈیا اور منبر سے یہ تصور بدلنا ہوگا کہ کامیاب عورت صرف وہ ہے جو نوکری کرے۔ کامیاب عورت وہ ہے جو ایک صالح انسان تیار کرے — جو آگے چل کر اس دنیا کو بہتر بنائے۔ حضرت خدیجہؓ کا مال بھی اسلام کے کام آیا، لیکن حضرت عائشہؓ کی سب سے بڑی فضیلت ان کا علم اور امت کی تربیت تھی۔ دونوں عظیم تھیں — لیکن دونوں کی عظمت کا پیمانہ پیسہ نہیں تھا، خدمت تھی۔ اگر ہم “ہوم میکر” کو ہیرو بنا کر پیش کریں، تو نئی نسل کی لڑکیاں اس کردار کو بوجھ نہیں، مشن سمجھیں گی۔

آخری بات

گھریلو عورت کی خدمت کا صلہ اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے — اور وہ کسی تنخواہ سے بڑا ہے۔ لیکن دنیا میں اسے وہ عزت دینا، وہ تکریم دینا، اسے یہ احساس دلانا کہ اس کے بغیر یہ گھر، یہ معاشرہ، یہ تہذیب ایک کھنڈر ہے — یہ مرد کی ذمہ داری ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے، اور پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

جب تک ہم مغرب کی عینک اتار کر خاندان کو ایک مقدس ادارہ نہیں سمجھیں گے — چاہے قوانین بدلیں، چاہے تقریریں کریں — طلاق و خلع کا یہ طوفان نہیں رکے گا۔ زنجیر ٹوٹتی اس لیے نہیں کہ کوئی کڑی کمزور ہے — زنجیر ٹوٹتی اس لیے ہے کہ ہم نے اسے جوڑنا چھوڑ دیا۔ اسے جوڑنا ہوگا — محبت سے، ذمہ داری سے، اور دین کی روشنی میں۔