
اسلامی نفسیات قسط نمبر 2
پہلی قسط میں ہم نے انسانی نفس، اس کی اقسام، اس کے دھوکے اور انہیں کنٹرول کرنے کا طریقہ دیکھا تھا۔ آج ہم انسان کے اندر موجود نفسیات کا مکمل اور مربوط نظام دیکھیں گے۔
انسان کی حقیقت اور اس کا بادشاہ “دل”
انسان صرف ہڈیوں اور گوشت کا ڈھانچہ یا کیمیکلز کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ اللہ کی بنائی ہوئی ایک بہترین اور متوازن مخلوق ہے۔ انسان کے وجود کا اصل بادشاہ اور کنٹرول روم اس کا “دل” ہے۔ ہم زندگی میں جو بھی ارادے اور فیصلے کرتے ہیں، وہ اسی دل کے تخت سے جاری ہوتے ہیں۔
دل کا وزیر “عقل” اور ہدایت کی روشنی “وحی”
دل کو درست فیصلے کرنے کے لیے ایک سمجھدار مشیر کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ مشیر ہماری “عقل” ہے۔ لیکن عقل بالکل ایک آنکھ کی طرح ہے۔ آنکھ کی بینائی کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، اسے اندھیرے میں دیکھنے کے لیے کسی بیرونی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل کی آنکھ کے لیے یہ حقیقی روشنی “وحی” (قرآن اور اللہ کی ہدایت) ہے۔ جب دل اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے اور اس پر اللہ کی ہدایت کی روشنی پڑتی ہے، تو انسان کو زندگی کا سیدھا راستہ بالکل صاف نظر آ جاتا ہے۔
انسان کی دو بنیادی طاقتیں (جذبات)
اس سیدھے راستے پر چلنے اور دنیا کے نظام کو برتنے کے لیے اللہ نے انسان کی فطرت میں دو بہت طاقتور جذبات رکھے ہیں:
خواہشات کی طاقت: جو انسان کو رزق کمانے، دنیاوی ضروریات پوری کرنے، محنت کرنے اور نسل بڑھانے پر اکساتی ہے۔
غصے اور دفاع کی طاقت: جو انسان کو خطرات سے بچاتی ہے اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونا سکھاتی ہے۔
جب تک یہ دونوں طاقتیں عقل اور وحیِ الٰہی کے کنٹرول میں رہتی ہیں، انسان پرسکون رہتا ہے اور نفسیاتی الجھنوں سے محفوظ رہ کر کامیابی کا سفر طے کرتا ہے۔
بگاڑ کا آغاز اور جدید نفسیاتی بیماریاں (نفسِ امّارہ)
نفسیاتی خرابی تب شروع ہوتی ہے جب انسان اللہ کی ہدایت (وحی کی روشنی) سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے۔ روشنی ختم ہوتے ہی “عقل” اندھی ہو کر بھٹکنے لگتی ہے۔ عقل کو کمزور دیکھ کر انسان کی خواہشات اور غصہ بغاوت کر دیتے ہیں اور پورے وجود پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ قرآنی زبان میں اس بے لگام اور بری حالت کو “نفسِ امّارہ” (برائی پر اکسانے والا نفس) کہتے ہیں۔
اس حالت میں دو جدید نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں:
ڈپریشن (Depression): جب انسان کی دنیاوی خواہشات بے قابو ہو جائیں اور وہ ان کے پیچھے اندھا ہو جائے۔ چونکہ اس فانی دنیا میں انسان کی ہر خواہش کا پورا ہونا ناممکن ہے، اس لیے مسلسل محرومیوں اور نامرادیوں سے اس کے اندر ایک شدید اداسی، ناامیدی اور کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے۔ اسی کو آج ہم ڈپریشن کہتے ہیں۔
اینگزائٹی (Anxiety): جب غصہ اور دفاعی نظام بغیر عقل کے اندھا دھند متحرک رہے، تو انسان کو ہر وقت ایک انجانا خوف، عدم تحفظ اور مستقبل کے اندیشے کھاتے رہتے ہیں۔ اسے آج کی زبان میں اینگزائٹی کہا جاتا ہے۔
ضمیر کی بے چینی (نفسِ لوّامہ)
ڈپریشن اور اینگزائٹی کے اس عذاب کے دوران، انسان کے اندر چھپی ہوئی فطرتِ سلیمہ (ضمیر) اسے بار بار کچوکے لگاتی ہے اور اسے اپنے غلط فیصلوں پر پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس اندرونی کشمکش، شرمندگی اور دکھ کو قرآن “نفسِ لوّامہ” (ملامت کرنے والا نفس) کہتا ہے۔ آج کے ماہر نفسیات کے کلینک میں بیٹھا مریض دراصل اسی نفسِ لوامہ کے کرب سے گزر رہا ہوتا ہے۔
علاج اور سکونِ قلب (نفسِ مطمئنہ)
ایک عام سوچ یہ ہے کہ شاید ان جذبات کو مکمل طور پر مار دینے میں ہی بھلائی ہے۔ اسلام اس کی نفی کرتا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ ان قدرتی جذبات (خواہش اور غصے) کو مارنا نہیں ہے، بلکہ ان کی تربیت کر کے انہیں اعتدال پر لانا ہے، جسے “تزکیۂ نفس” کہتے ہیں۔ جب انسان دوبارہ اپنی عقل کو وحی سے جوڑتا ہے، تو اس کی خواہشات حلال کے دائرے میں (پاکدامنی) اور غصہ حق کے دفاع کے لیے (شجاعت) مخصوص ہو جاتا ہے۔ جب یہ توازن قائم ہوتا ہے، تو اندر کی ساری جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، جسے قرآن “نفسِ مطمئنہ” پکارتا ہے۔
2. جدید انسان اور ڈپریشن: اسے ایک مثال (Analogy) سے سمجھیں
جدید دور کے ڈپریشن اور اسلام کے پیش کردہ حتمی علاج کو ہم “خواہشات کے بازار اور اسباب کی دنیا” کی ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں:
فرض کریں یہ دنیا ایک بہت بڑا اور پرکشش بازار ہے، اور انسان اس بازار میں ایک خریدار ہے۔
انسان کے دل میں بے شمار خواہشات جنم لیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ خواہشات “جائز” ہوتی ہیں (جیسے اچھی نوکری، گھر، حلال رزق) اور کچھ “ناجائز” ہوتی ہیں (جیسے حرام کمانا، تکبر، حسد یا دوسروں کا حق مارنا)۔
ڈپریشن کا جنم:
آج کا انسان اس بازار کی چمک دمک میں کھو گیا ہے۔ وہ جائز اور ناجائز کا فرق بھول کر بس ہر چیز حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر خواہش کا پورا ہونا اس دنیا میں ناممکن ہے۔ جب انسان کی بڑی بڑی توقعات اور بے لگام خواہشات ٹوٹتی ہیں، تو وہ شدید محرومی، تھکاوٹ اور اداسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی جدید دور کا سب سے بڑا مرض “ڈپریشن” ہے۔
وحی کی روشنی اور مسبب الاسباب کا اصول:
جب اس اندھیرے میں انسان کو “وحی” (قرآن و سنت) کی روشنی ملتی ہے، تو اس پر ایک عظیم حقیقت کھلتی ہے۔ وحی اسے بتاتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اور ہر نتیجہ اللہ تعالیٰ کے تابع ہے۔ ہم دنیا میں جو محنت کرتے ہیں یا وسائل استعمال کرتے ہیں، وہ صرف “اسباب” (Means) ہیں۔ لیکن ان اسباب سے نتیجہ پیدا کرنے والی اصل ذات صرف اللہ کی ہے جسے “مسبب الاسباب” (Cause of all causes) کہا جاتا ہے۔
حتمی علاج اور نفسِ مطمئنہ:
وحی کی روشنی ملنے کے بعد، اب انسان دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ دنیا میں میرا کام صرف دو چیزیں ہیں:
ناجائز خواہشات کو مکمل طور پر چھوڑ دینا۔
اپنی جائز خواہشات کے لیے درست اسباب (محنت، تدبیر، علم) کو اختیار کرنا۔
اب وہ پوری ایمانداری سے اسباب اختیار کرتا ہے۔ اگر تو محنت کے بعد اسے اس کی پسندیدہ چیز مل جائے، تو وہ تکبر کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور سب سے اہم بات… اگر پوری محنت (اسباب) کے بعد بھی اسے اس کی جائز خواہش نہیں ملتی، تو وہ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتا!
وہ اپنے دل کو یہ سمجھا لیتا ہے کہ میں نے اسباب پر عمل کر لیا، لیکن “مسبب الاسباب” (اللہ) نے اپنی لامحدود حکمت کی وجہ سے یہ چیز مجھے نہیں دی، اور اسی محرومی میں میرے لیے کوئی بڑی بھلائی چھپی ہے۔
جب انسان اپنی کوشش کے بعد نتائج کے معاملے میں مکمل طور پر اللہ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر کی ساری بے چینی، مایوسی اور ڈپریشن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں۔ اسی مقامِ شکر و رضا کو اسلام میں “نفسِ مطمئنہ” (سکون پانے والا نفس) کہتے ہیں اور یہی جدید نفسیاتی مسائل کا سب سے شاندار اور دیرپا علاج ہے۔
See less
