
سورہ نمبر: 48
سورہ کا نام: سورۃ الفتح
ماخوذ: فی ظلال القرآن از سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ
مرکزی مضمون (اردو):
اسلام کا اصل ہدف زمین کے کسی ٹکڑے پر قبضہ کرنا نہیں، بلکہ تمام انسانی ساختہ نظاموں اور باطل ادیان پر اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے؛ صلح حدیبیہ وہ تزویراتی (Strategic) دروازہ تھا جس نے اس عالمی غلبے کی راہ ہموار کی۔
Central Theme (English):
The ultimate objective of Islam is not merely territorial gain but the global dominance of Divine Law over all man-made systems; the Treaty of Hudaybiyyah was the strategic catalyst for this universal manifestation.
مرکزی مضمون کی آیت (عربی):
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا (28)
آسان اردو ترجمہ:
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان (اور نظاموں) پر غالب کر دے، اور اللہ بطورِ گواہ کافی ہے۔
یہ مرکزی آیت کیوں ہے؟ :
سید قطب کے مطابق، سورۃ الفتح کا پورا تانہ بانہ اسی ایک آیت کے گرد بُنا گیا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام بظاہر ایک “دفاعی” یا “دب کر” کیے گئے معاہدے پر غمگین تھے، لیکن اللہ نے اس آیت کے ذریعے ان کی نظریں دور مستقبل پر گاڑ دیں۔ اللہ نے بتایا کہ حدیبیہ کی صلح محض مکہ واپس جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس ‘عالمی مشن’ کا پہلا بڑا قدم ہے جس کا مقصد ‘لیظہرہ علی الدین کلہ’ (دین کو سب پر غالب کرنا) ہے۔ سورت کی تمام پچھلی آیات اسی عظیم ہدف کی تیاری ہیں، اور آخری آیت اس مشن کو پورا کرنے والی جماعت کا حتمی نقشہ ہے۔
پسِ منظر :
ہجرت کا چھٹا سال تھا۔ مدینہ کی نوزائیدہ ریاست اب ایک ایسی طاقت بن چکی تھی جسے نظر انداز کرنا ناممکن تھا۔ اسی ماحول میں رسول اللہ ﷺ نے ایک خواب دیکھا کہ آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ پرامن طریقے سے مکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ 1400 جاں نثاروں کا یہ قافلہ، جو صرف عمرے کے ارادے سے نکلا تھا، جب حدیبیہ پہنچا تو قریش کی جاہلی انا آڑے آگئی۔ انہوں نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور بالآخر ایک ایسا معاہدہ طے پایا جس کی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ صحابہ کے دل بوجھل تھے، ابو جندلؓ کی واپسی نے زخموں پر نمک چھڑک دیا تھا۔ لیکن اسی بوجھل دل اور مدینہ واپسی کے سفر میں یہ سورت نازل ہوئی، جس نے بتایا کہ جسے تم ‘دبنا’ سمجھ رہے ہو، وہ کائنات کی سب سے بڑی ‘فتحِ مبین’ ہے کیونکہ اب تمہارا دین ایک عالمی قوت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
پہلی شاخ: فتح کا کائناتی اعلان اور نفسیاتی انقلاب
آیات: 1 سے 7
سورت کا آغاز ایک گرج دار اعلان سے ہوتا ہے: “ہم نے تمہیں کھلی فتح دے دی!” یہ الفاظ ان صحابہ کے لیے تھے جو ابھی صلح کی شرائط پر غمگین تھے۔ اللہ نے بتایا کہ اصل فتح سرحدیں پار کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ‘سکینت’ کا اترنا ہے جو مومنوں کے ایمان کو پہاڑ جیسا بنا دیتی ہے۔ یہاں تحریکِ اسلامی کو یہ سبق دیا گیا کہ تمہاری فتح کا انحصار مادی اسباب سے زیادہ اللہ کی نصرت اور تمہارے باطنی اطمینان پر ہے۔
مرکزی مضمون سے ربط: یہ شاخ بتاتی ہے کہ عالمی غلبے (آیت 28) کے لیے پہلا مرحلہ ‘نفسیاتی برتری’ اور اللہ پر کامل بھروسہ ہے۔
اگلی شاخ سے ربط: جب نفسیاتی طور پر مومن تیار ہو گئے، تو اب انہیں ایک ‘عہد’ میں باندھنے کا وقت آگیا۔
دوسری شاخ: بیعتِ رضوان—تحریک کا فولادی نظم و ضبط
آیات: 8 سے 10
حدیبیہ کے درخت کے نیچے ہونے والی وہ بیعت محض ایک قسم نہیں تھی، بلکہ وہ کائنات کا سب سے بڑا ‘پروٹوکول’ تھا۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب تم نبی ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ رہے تھے، تو دراصل وہ اللہ کا ہاتھ تھا۔ یہ شاخ ایک انقلابی جماعت کو اس کے ‘مرکز’ (قیادت) سے جوڑتی ہے۔ سید قطب کہتے ہیں کہ عالمی غلبے کے لیے ایسی جماعت چاہیے جس کی وفاداری کا رشتہ مٹی یا خون سے نہیں، بلکہ براہِ راست عرشِ الٰہی سے ہو۔
مرکزی مضمون سے ربط: عالمی غلبہ (آیت 28) صرف اسی جماعت کے ذریعے ممکن ہے جو قیادت کی اطاعت میں ‘فنا’ ہونا جانتی ہو۔
اگلی شاخ سے ربط: اس مخلص جماعت کے مقابلے میں ان لوگوں کو دیکھو جو مادی مفادات کی خاطر پیچھے رہ گئے۔
تیسری شاخ: موقع پرستوں کا پردہ چاک—تحریک کی چھانٹی
آیات: 11 سے 17
یہاں قرآن ان بدوؤں (اعراب) کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے مال اور بال بچوں کے بہانے بنا کر ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمان کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ اللہ ان کے جھوٹے عذرات کو رد کرتا ہے اور تحریک کو یہ اصول دیتا ہے کہ تمہارے ساتھ چلنے والے صرف وہ ہوں جو نظریے کے مخلص ہوں، نہ کہ وہ جو صرف غنیمتوں (مادی فائدے) کے پجاری ہوں۔
مرکزی مضمون سے ربط: عالمی مشن (آیت 28) بزدلوں اور موقع پرستوں کے سہارے نہیں، بلکہ جاں نثاروں کے بل پر پورا ہوتا ہے۔
اگلی شاخ سے ربط: تحریک کی اس چھانٹی کے بعد، اب باری آتی ہے اس حکمت کی جس نے بغیر خون بہائے دشمن کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔
چوتھی شاخ: تزویراتی حکمت اور جاہلی انا کی شکست
آیات: 18 سے 26
اللہ بتاتا ہے کہ مکہ میں جنگ کیوں نہیں ہوئی؟ اس لیے کہ وہاں کچھ کمزور مسلمان مرد اور عورتیں چھپی ہوئی تھیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے۔ اللہ کی حکمت نے تمہیں روک لیا تاکہ تم گناہ سے بچو۔ ایک طرف مشرکین کی ‘حمیتِ جاہلیہ’ (جاہلانہ اکڑ) تھی اور دوسری طرف اللہ نے مومنوں پر ‘کلمہ تقویٰ’ لازم کر دیا جس نے انہیں اشتعال کے باوجود صلح پر آمادہ رکھا۔ یہ وہ اخلاقی برتری تھی جس نے قریش کے وقار کو خاک میں ملا دیا۔
مرکزی مضمون سے ربط: دین کا غلبہ (آیت 28) محض جذباتیت سے نہیں، بلکہ ‘تزویراتی حکمت’ (Strategic Wisdom) سے حاصل ہوتا ہے۔
اگلی شاخ سے ربط: اس تزویراتی کامیابی کا حتمی نتیجہ ‘عالمی امامت’ کی شکل میں نکلے گا۔
پانچویں شاخ: فاتح جماعت کا خاکہ اور عالمی غلبہ
آیات: 27 سے 29
سورت کا اختتام اس جماعت کی تصویر کشی پر ہوتا ہے جو عالمی غلبے کا خواب سچ کرنے والی ہے۔ وہ “کفار پر سخت اور آپس میں رحمدل” ہیں۔ یعنی مسلمانوں کی تکفیر کرنے انہی پر بم نہیں پھوڑیں گے۔ وہ ایک ایسی کھیتی کی طرح ہیں جو دن بدن مضبوط ہو رہی ہے اور جسے دیکھ کر دشمن کے دل جلتے ہیں۔ یہ وہ جماعت ہے جو سجدوں کے نور سے پہچانی جاتی ہے اور جس کا مشن پوری دنیا میں اللہ کے دین کو نافذ کرنا ہے۔
مرکزی مضمون سے ربط: یہ شاخ براہِ راست آیت 28 کے عالمی مشن کی ‘انسانی مشینری’ کو بیان کرتی ہے۔
سورت کا معجزہ (Ring Composition):
اس سورہ کا سب سے بڑا معجزہ اس کی تزویراتی ترتیب ہے۔ یہ ایک دائرے کی طرح ہے جہاں آغاز ‘فتحِ مبین’ کے وعدے سے ہوتا ہے، مرکز میں ‘دلوں کی حالت’ (بیعت) کو معیار بنایا جاتا ہے، اور اختتام ‘عالمی غلبے’ اور ‘فاتح جماعت کی صفات’ پر ہوتا ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام کا پھیلاؤ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم ‘ربانی پلاننگ’ کا حصہ ہے۔
خلاصہ:
سورۃ الفتح ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تحریک کے لیے صلح اور جنگ دونوں ‘آلات’ (Tools) ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جماعت اپنے نظریے پر قائم رہے اور قیادت کی حکمتِ عملی پر بھروسہ کرے۔ حدیبیہ کی صلح نے ثابت کیا کہ اسلام اب مکہ کا ایک مقامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک عالمی نظام بن چکا ہے جسے مٹانا اب کسی کے بس میں نہیں۔
جدید دور کے لیے حاصلِ کلام و سبق:
مسلمان اپنی ناکامیوں کا رونا مادی وسائل کی کمی کی وجہ سے روتے ہیں۔ جبکہ تمہاری اصل کمی ‘نظریاتی یکسوئی’ اور ‘قیادت پر اعتماد’ کی ہے۔ ہم جذباتیت (حمیتِ جاہلیہ) کا شکار ہو جاتے ہو اور تزویراتی حکمت (Strategic Wisdom) کو بھول جاتے ہو۔ جس دن ہم نے اپنی صفوں سے موقع پرستوں کو نکال دیا اور حدیبیہ کے مومنوں کی طرح اپنے نظریے کے لیے ‘سکینت’ اور ‘تقویٰ’ کو اپنا لیا، اس دن ‘لیظہرہ علی الدین کلہ’ کا وعدہ تحریک اسلامی کے ذریعے دوبارہ سچ ہو کر رہے گا۔”
