umeed

UMEED Central Portal

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2134499#:~:text=The%20UMEED%20Central%20Portal%2C%20short,and%20monitoring%20of%20Waqf%20properties.

The UMEED portal is a Unified Waqf Management, Empowerment, Efficiency, and Development digital platform launched by India’s Ministry of Minority Affairs to centralize the registration, management, and monitoring of Waqf properties nationwide. It aims to increase transparency, accountability, and efficiency in managing these properties, which are designated for religious or charitable purposes. Key features include the mandatory registration of all Waqf properties with details like dimensions and geotagged locations, and a new module for maintenance support applications from widows, divorced women, and orphans. 

Purpose and goals

  • Digitization: To create a single, centralized digital platform for all Waqf properties. 
  • Transparency: To ensure clear and public information regarding the use of Waqf properties. 
  • Accountability: To improve the management and oversight of Waqf properties. 
  • Empowerment: To protect the rights of minority communities and provide support, such as a new module for maintenance claims from eligible individuals. 

Key features

  • Centralized registration: All Waqf properties must be registered on the portal, with details like measurements and geotagged locations. 
  • Mandatory registration period: State Waqf Boards were mandated to upload all property details within six months of the portal’s launch in June 2025. 
  • Multi-language support: The portal is being designed to support various languages. 
  • Maintenance support module: A new feature allows eligible individuals, including widows, divorced women, and orphans, to apply for maintenance support from Waqf-alal-aulad properties. 
  • Dispute resolution: Unregistered or disputed properties will be handled by the Waqf tribunal for judgment on ownership and validity. 

Who launched it

  • The Ministry of Minority Affairs launched the portal in coordination with State Waqf Boards. 
  • The portal was launched in June 2025. 

اقلیتی امور کی وزارتت

azadi ka amrit mahotsav

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے ’امید‘کے مرکزی پورٹل کا آغاز کیا، جو وقف املاک کی بر وقت اپ لوڈنگ، تصدیق اور نگرانی کے لیے مرکوز ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے


’امید‘پورٹل وقف املاک کے نظم و نسق کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا: کرن رجیجو

زیادہ شفافیت، جوابدہی اور عوامی شرکت کو متعارف کراتے ہوئے وقف اثاثوں کا نظم و نسق کس طرح کیا جاتا ہے ،یہ پورٹل اس میں مثالی تبدیلی لائے گا

Posted On: 06 JUN 2025 3:03PM by PIB Delhi

’امید‘ پورٹل ہندوستان میں وقف املاک کے بندوبست اور اسے ادارہ جاتی بنانے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا۔ یہ نہ صرف شفافیت لائے گا بلکہ عام مسلمانوں بالخصوص خواتین اور بچوں کی مدد کرے گا۔ یہ بات​​اقلیتی امور اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے آج نئی دہلی میں ’امید‘سنٹرل پورٹل کا آغاز کرنے کے بعد کہی ۔

اقلیتی امور کی وزارت کے ذریعہ تیار کردہ اس پورٹل کے باضابطہ طور پر افتتاح کے موقع پر اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین بھی موجود تھے۔

image0019AVX.jpg

اسے ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے، جناب رجیجو نے اس بات پر زور دیا کہ ’امید‘ سنٹرل پورٹل ایک تکنیکی اپ گریڈیشن سے بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’یہ پورٹل اقلیتی برادریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کی علامت ہے کہ معاشرے کی ملکیت والے وقف اثاثوں کو غریب مسلمانوں کے لیے مؤثر اور منصفانہ طور پر استعمال کیا جائے، اصل میں یہ اثاثے جن کے لیے تھے‘‘۔

امیدمرکزی پورٹل، جو یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 1995 کا مخفف ہے اور یہ وقف املاک کی بروقت اپ لوڈنگ، تصدیق اور نگرانی کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ پورٹل سے توقع کی جاتی ہے کہ زیادہ شفافیت، جوابدہی، اور عوامی شراکت کو متعارف کراتے ہوئے پورے ہندوستان میں وقف اثاثوں کا بہتر نظم و نسق کس طرح کیا جاتا ہے ، اس میں ایک مثالی تبدیلی لائے گا۔

پورٹل کی اہم خصوصیات یہ ہیں

  1. تمام وقف املاک کی جیو ٹیگنگ کے ساتھ ڈیجیٹل انوینٹری کی تشکیل
  2. بہتر ردعمل کے لیے آن لائن شکایات کے ازالے کا نظام
  3. شفاف طریقے سے لیز پر دینے اور استعمال کی نگرانی کا نظام
  4. جی آئی ایس نقشہ سازی اور دیگر ای گورننس آلات کے ساتھ انضمام
  5. عوامی رسائی کے لیے تصدیق شدہ ریکارڈوں اور رپورٹوں کی فراہمی

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورٹل ایک ایسی اصلاح ہے جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا اور یہ پورٹل وقف اثاثوں کے غلط استعمال کو روکے گا اور وقف انتظامیہ کو لوگوں کے قریب لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر جائیداد کا حساب لیا جائے اور اس مقصد کے مطابق استعمال کیا جائے جس کے لیے اسے وقف کیا گیا تھا۔

اقلیتی امور کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر کمار نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ’امید‘ پورٹل ڈیجیٹل وقف گورننس کی ریڑھ کی ہڈی بنے گا، اور اس طرح اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وقف اثاثے اور املاک تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، ذریعۂ معاش پیدا کرنے اور سماجی فلاح و بہبود، خاص طور پر مسلم معاشرے کے پسماندہ طبقات کے حالات کو بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کریں گے۔

*************