
مولانا مودودی رحمہ اللہ کی کتاب تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں کا خلاصہ
دنیا کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ (مرکزی فکر)
انسانیت کی تباہی اور دنیا میں موجود تمام مسائل کی جڑ ایک ہی ہے: قیادت کا غلط لوگوں کے ہاتھ میں ہونا۔
جب تک دنیا کی زمامِ کار (اقتدار اور رہنمائی) خدا سے ناآشنا، مادہ پرست، اور ظالم لوگوں کے ہاتھ میں رہے گی، دنیا میں جنگ، ظلم، استحصال اور بگاڑ ہی پیدا ہوتا رہے گا۔
اصل حقیقت: معاشرے کی سمت
انفرادی نیکیاں دنیا کا نظام نہیں بدل سکتیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ “دنیا اسی طرف جاتی ہے جدھر اس کی قیادت اسے لے جائے۔” جس طرح ڈرائیور گاڑی کو اپنی مرضی کی سمت لے جاتا ہے، اسی طرح وقت کی غالب قیادت انسانی تہذیب، معیشت اور سیاست کا رخ طے کرتی ہے۔ اس لیے اصل کام اس ڈرائیونگ سیٹ (اقتدار) سے غلط لوگوں کو ہٹانا ہے۔
اللہ کا قانون (سنتِ الٰہی)
دنیا میں تبدیلی محض دعاؤں اور معجزوں سے نہیں آتی۔ اللہ کا اٹل قانون یہ ہے کہ “جو جدوجہد کرے گا، وہی غالب آئے گا۔” اللہ تعالیٰ اقتدار طشتری میں رکھ کر کسی کو نہیں دیتا۔ باطل اگر منظم ہے اور حق غفلت کا شکار ہے، تو دنیا میں باطل ہی کا راج رہے گا۔
موجودہ دنیا کا موازنہ (تین اہم ترین حصے)
اس جدوجہد اور غلبے کے قانون کو سمجھنے کے لیے دنیا میں موجود تین گروہوں کا موازنہ کرنا ضروری ہے:
1. مغرب (کامیاب مگر مادہ پرست):
مغربی اور غیر مسلم اقوام نے دین کو تو چھوڑ دیا، لیکن انہوں نے دنیا میں کامیابی کی “بنیادی اخلاقیات” (محنت، نظم و ضبط، وقت کی پابندی، حکمت، اور اتحاد) کو اپنا لیا۔ ان صفات کی بدولت انہوں نے مادی دنیا پر غلبہ حاصل کر لیا۔
2. مسلمان (زوال کا شکار):
آج کے مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے “اسلامی اخلاقیات” (سچی خدا ترسی، دیانت) تو چھوڑی ہی تھیں، ساتھ ہی دنیا میں جینے کی “بنیادی اخلاقیات” (نظم، محنت، وقت کی پابندی) بھی چھوڑ دیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمان کمزور، منتشر اور ہر میدان میں زوال کا شکار ہیں۔
3. حقیقی اسلام (کامیابی کا فارمولا):
اسلام کا اصل مطالبہ اور کامیابی کا حتمی فارمولا یہ ہے کہ:
(بنیادی اخلاقیات + اسلامی اخلاقیات = غلبہ)
جب ایک گروہ کے اندر دنیاوی محنت و تنظیم (بنیادی اخلاقیات) بھی ہو اور ساتھ ہی خدا کا خوف اور پاکیزگی (اسلامی اخلاقیات) بھی شامل ہو جائے، تو انہیں دنیاوی کامیابی کے ساتھ اللہ کی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ ملاپ روشنی، طاقت اور ناقابلِ شکست اتحاد پیدا کرتا ہے۔
نتیجہ: حق اور باطل کا فرق
جب بنیادی اور اسلامی اخلاقیات سے لیس ایک اسلامی گروہ مادہ پرست باطل سے ٹکراتا ہے، تو ان کی طاقت کا اصل راز ان کا کردار ہوتا ہے۔ جنگ ہو یا امن، یہ گروہ سچائی، عدل اور رحم کا دامن نہیں چھوڑتا۔ یہی وہ “اسلامی کردار ہے جو دشمنوں کے دل جیت لیتا ہے” اور دنیا ان کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتی ہے۔
لائحہ عمل: تربیت کے چار درجات
ایک عام انسان کو اس عظیم مقصد کے لیے تیار کرنے اور اس میں مطلوبہ اخلاقیات پیدا کرنے کے لیے، اسلام نے تربیت کا ایک عملی خاکہ (نصاب) دیا ہے، جو ایک تکون (Pyramid) کی طرح نیچے سے اوپر کی طرف جاتا ہے:
ایمان (بنیاد): یہ اس بات کا شعور ہے کہ “میرا سب کچھ اللہ کا ہے۔” میری جان، مال اور مرضی خدا کے تابع ہے۔
اسلام (اطاعت): یہ ایمان کا عملی مظاہرہ ہے۔ یعنی اپنی پوری زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھال لینا اور “مکمل اطاعت” کرنا۔
تقویٰ (نگہداشت): یہ دل کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان کو ہر پل یہ احساس رہتا ہے کہ “اللہ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔” یہ احساس اسے تنہائی میں بھی گناہ سے روکتا ہے۔
احسان (معراج): یہ اخلاقیات کی سب سے بلند چوٹی ہے۔ اس کا مطلب ہے “دین کے لیے جینا”۔ ایسا انسان صرف فرائض پر نہیں رکتا، بلکہ وہ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دینے کے لیے بے چین رہتا ہے۔
حتمی منزل اور اصل حل: “امامتِ صالحہ کا قیام”
فلو چارٹ کے آخر میں اس پوری بحث کا نچوڑ اور تحریکِ اسلامی کا واحد حل پیش کیا گیا ہے:
جب تربیت یافتہ افراد پر مشتمل ایک جماعت بنیادی اخلاقیات اور اسلامی اخلاقیات کو ملا کر میدانِ عمل میں اترتی ہے، تو اللہ کی مدد سے وہ باطل نظام کو اکھاڑ پھینکتی ہے۔ اس جدوجہد کا آخری اور حتمی نتیجہ “امامتِ صالحہ کا قیام” ہے۔
یعنی اقتدار بدکرداروں کے ہاتھ سے نکل کر نیک اور صالح لوگوں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ جب نیک لوگ اقتدار میں آتے ہیں تو دنیا میں عدل کا نظام قائم ہوتا ہے، تاریکیاں چھٹتی ہیں، اور زمین اللہ کے نور اور انصاف سے بھر جاتی ہے۔ یہی اس پوری کتاب کا پیغام اور تحریکِ اسلامی کا نصب العین ہے۔
