
شیطان کے حوالے سے ایک شاندار سوال
حدیث مبارک میں آتا ھےاس کا مفھوم ھے کہ شیطان تمھارے رگوں مین ایسا ڈوڑتا ھے جیسے خون اس کا کیا مطلب ھے اپ تو کہتے ھے کہ شیطان باہرھے انسان کے اندر نہیں ہے ؟
جواب:
سوال پڑھ کر مزا آگیا
یہ اعتراض اس بات کی سب سے بڑی اور شاندار دلیل ہے کہ آپ لوگ تحریروں کو محض سرسری نہیں پڑھ رہے، بلکہ ایک ایک لفظ پر غور کر رہے ہیں اور آپ کا مطالعہ بہت گہرا ہے۔
واقعی، صحیح بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ:
“شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے رگوں میں خون دوڑتا ہے۔”
بظاہر یہ حدیث پچھلی مثال (کہ شیطان باہر کا دشمن ہے) سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، لیکن جب ہم اس پر علمِ کلام، نفسیات اور امام غزالیؒ کی کتابوں میں دیکھتے ہیں تو یہ دونوں باتیں ایک ہی تصویر کے دو رخ بن کر سامنے آتی ہیں۔
1. ہیکر اور وائرس کی منطق (The Hacker & The Virus)
اس بات کو جدید دور کی ایک مثال سے سمجھیں۔ ایک بین الاقوامی ہیکر روس یا امریکہ میں (یعنی آپ کے سسٹم سے مکمل طور پر ‘باہر’) بیٹھا ہے۔ لیکن جب وہ آپ کے کمپیوٹر پر حملہ کرتا ہے، تو وہ ایک ‘وائرس’ یا ‘سگنل’ بھیجتا ہے جو آپ کے کمپیوٹر کی ریم
(RAM)
اور پروسیسر کی ایک ایک تار (رگ) میں دوڑنے لگتا ہے۔
کیا ہیکر خود آپ کے لیپ ٹاپ کے اندر گھس کر بیٹھ گیا ہے؟
نہیں، وہ باہر ہے۔
لیکن کیا اس کا اثر اور اس کا بھیجا ہوا وائرس آپ کے سسٹم کی رگوں میں دوڑ رہا ہے؟
جی ہاں، بالکل دوڑ رہا ہے۔
بالکل اسی طرح شیطان کی “ذات” (Entity) ایک بیرونی دشمن کی حیثیت رکھتی ہے جس کا آپ کی روح یا دل کے کنٹرول روم پر کوئی براہِ راست قبضہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے بھیجے ہوئے “وسوسے” (Signals/Virus)
انسان کے خون کے اندر سرایت کر جاتے ہیں۔
2. خون ہی کیوں؟ (سائنس اور ہارمونز کا کھیل)
حدیثِ پاک کے الفاظ پر غور کریں کہ شیطان “خون کی جگہ” دوڑتا ہے۔ آج کی میڈیکل سائنس اور نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے تمام جذبات (غصہ، شہوت، لالچ، خوف) دراصل خون میں دوڑنے والے کیمیکلز اور ہارمونز (جیسے ایڈریلین، ڈوپامائن، ٹیسٹوسٹیرون) کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
شیطان براہِ راست آپ کے دل (بادشاہ) کو نہیں پکڑ سکتا، اس لیے وہ آپ کے خون (ہارمونل سسٹم) میں اپنے وسوسوں کا کیمیکل شامل کرتا ہے۔
جب آپ کو کوئی گالی دیتا ہے، تو شیطان آپ کے خون میں غصے کی حرارت بڑھا دیتا ہے (بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے)۔
جب کوئی گناہ سامنے آتا ہے تو وہ خون میں شہوت کی روانی تیز کر دیتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اپنا سارا کھیل آپ کے
“بائیولوجیکل سسٹم” (Biological System)
کے ذریعے کھیلتا ہے، جس کی بنیادی سپلائی لائن آپ کا خون ہے۔ اور یہ خون کس چیز کی خوراک ہے؟ اسی اندھے گھوڑے (نفس) کی۔
3. امام غزالیؒ کی شاندار تشریح (گھوڑے کی خوراک)
حجۃ الاسلام امام غزالیؒ نے اس حدیث کی جو تشریح کی ہے، وہ اس پوری فلاسفی کا نقطہِ عروج ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ خون انسان کی خوراک اور شہوت سے بنتا ہے۔ جہاں خون کی روانی زیادہ ہوتی ہے، وہاں نفس (جانور) کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ شیطان کے چلنے کے راستے دراصل انسان کی “شہوات” (Desires) ہیں۔
اسی حدیث کے اگلے حصے میں نبی کریم ﷺ نے اس خون میں دوڑنے والے شیطان کا علاج کیا بتایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “اس کے راستوں (خون کی نالیوں) کو روزے کے ذریعے تنگ کرو۔”
لاجک کتنی شاندار ہے! جب انسان روزہ رکھتا ہے تو جسم کو خوراک نہیں ملتی، خوراک نہ ملنے سے خون کی حدت اور روانی کم ہو جاتی ہے، خون کم ہونے سے اندھے گھوڑے (نفس) کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے، اور جب نفس کمزور ہوتا ہے تو شیطان کے دوڑنے کے ہائی ویز (Highways) خود بخود تنگ ہو جاتے ہیں۔
کنٹرول بمقابلہ رسائی (Control vs. Access)
جب میں نے کہا کہ شیطان “باہر” ہے، تو اس کا مطلب تھا کہ اس کے پاس کنٹرول (Control) نہیں ہے۔ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ سے زبردستی کوئی گناہ نہیں کروا سکتا۔ (جیسا کہ قرآن میں شیطان خود کہتا ہے: “میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا، میں نے تو صرف بلایا تھا، تم خود بھاگے آئے”
سورہ ابراہیم)۔
لیکن جب حدیث کہتی ہے کہ وہ “خون میں دوڑتا ہے”، تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس آپ کے حیوانی وجود تک رسائی (Access) ہے۔ وہ آپ کے خون کی گرمی، آپ کی شہوت، اور آپ کے غصے کے ذریعے آپ کو اندر سے ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
شیطان (ہیکر) باہر کھڑا ہے۔
نفس (کمپیوٹر) پر حملہ ہو رہا ہے۔
اور وہ حملہ خون کی رگوں (Network cables) کے ذریعے ہو رہا ہے۔
اگر آپ کا دل (اینٹی وائرس / ذکرِ الٰہی) مضبوط ہے، تو وہ خون میں دوڑنے والے اس زہر کو فلٹر کر کے صاف کر دے گا، اور شیطان کا سارا وائرس ناکام ہو جائے گا
