you must change the system

جب ہم کائنات کے اس عظیم الشان نظام پر غور کرتے ہیں، تو ذہن میں ایک چبھتا ہوا سوال پیدا ہوتا ہے:

ہم اس خالق کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں جو بلیک ہولز سے لے کر ایٹم کے مرکز تک کو کنٹرول کرتا ہے۔ ہماری امت ہر سال لاکھوں کی تعداد میں حج اور عمرے کرتی ہے، کروڑوں لوگ عیدِ قربان پر قربانی کرتے ہیں اور رمضان میں روزے رکھتے ہیں۔ جمعہ کی نماز میں مساجد میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ ظاہری طور پر ہماری عبادات اس قدر عالیشان ہیں، مگر پھر بھی عالمی بساط پر ہمارا وجود ایک پٹتے ہوئے پیادے سے زیادہ کیوں نہیں؟

اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ آئیے اس پر منطقی انداز میں غور کرتے ہیں۔

کیا محض “سستی” ہمارا اصل مسئلہ ہے؟

اکثر لوگ اس زوال کی یہ سطحی وجہ بیان کرتے ہیں کہ “آج کی نسل سست ہو چکی ہے، ایمان کمزور ہے، جس دن فجر کی نماز میں جمعہ کے برابر تعداد ہو گئی، انقلاب آ جائے گا۔”

کیا آپ کی عقل اس دلیل کو تسلیم کرتی ہے؟ کیا واقعی ہماری عالمی ذلت اور نظام کی خرابی کی واحد وجہ صرف فجر میں حاضری کی کمی ہے؟ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور تلخ ہے۔

1. مسئلہ سستی کا نہیں، “ترجیحات اور نظام کی جنگ” کا ہے

آج کا مروجہ سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) محض ایک معاشی ڈھانچہ نہیں، بلکہ اس جدید دور کا ایک پوشیدہ “خدا” (False Deity) ہے جو انسان سے اس کا وقت، توانائیاں، اور ذہن مانگتا ہے۔ جب یہ خونخوار سسٹم ایک عام انسان کو روٹی، بلوں اور قسطوں کے چکر میں رات گئے تک ایک مشین کی طرح نچوڑ لیتا ہے، تو اس کا مادی اور روحانی وجود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ہم افراد کی انفرادی عبادات کو بڑھانے پر تو زور دے رہے ہیں، لیکن اس “فیکٹری آف تھاٹ” (جدید سیکولر سسٹم) کو چیلنج کرنے سے ڈرتے ہیں جو دن رات ہماری نسلوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کر رہی ہے۔ جب طاغوت نے ہماری سوچ اور ہمارے اوقات ہی ہیک کر لیے ہیں، تو محض انفرادی پرہیزگاری سے یہ زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی۔ ہمیں اس نظام کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔

ہمارا ایک اور المیہ ہمارا نظریاتی تضاد ہے۔ کیا یہ لاجیکل ہے کہ ہم یہ تو مانتے ہیں کہ سورج، چاند اور کششِ ثقل (Gravity) سب اللہ کے حکم سے چلتے ہیں، لیکن معیشت اور ریاست چلانے کے لیے ہم مغرب کے وضع کردہ سیکولر اور سودی ماڈل پر بھروسہ کرتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کیا کہ “مسجد میری، اور بازار سرمایہ داروں کے۔” دینِ کامل کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اور ہر قانون، خواہ وہ زمین کی کششِ ثقل ہو یا عدالت کی کرسی، سب صرف اور صرف اسی ذات کے تابع ہوں۔ آج امت کی ذلت کی سب بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اسلام کے عبادتی حصے کو تو گلے لگا لیا، لیکن اس کے حکومتی و معاشی نظام (Software of Governance) کو رد کر دیا۔ آدھا دین طاقت نہیں، صرف کمزوری اور غلامی کو جنم دیتا ہے۔

بہت سے سادہ لوح لوگوں کا خیال ہے کہ بس ہر بندہ اپنے تئیں ٹھیک ہو جائے، تو انقلاب خود آ جائے گا۔ آئیے اس دلیل کا منطقی جائزہ لیں۔

فرض کریں ایک ماہرِ تعمیرات ایک انتہائی بوسیدہ اور غلط نقشہ (Blue-print) بناتا ہے (جو کہ ہمارا موجودہ باطل نظامِ حیات ہے)۔ اب اگر آپ اس غلط نقشے پر تعمیر کے لیے خالص سونے کی اینٹیں (Pure & Pious Individuals) بھی لگا دیں، تو کیا وہ عمارت سیدھی کھڑی ہو سکے گی؟

ہرگز نہیں! کائنات کا اصول ہے کہ عمارت گر پڑے گی کیونکہ خرابی اینٹوں میں نہیں، خرابی اس کے نقشے (سسٹم) میں تھی۔

ثابت ہوا کہ باطل نظام کے اندر رہتے ہوئے محض “سونے کے افراد” تیار کرنا کافی نہیں، جب تک کہ پرانا باطل نقشہ پھاڑ کر “خلافت و اقامتِ دین” کا وہ قرآنی ماڈل نافذ نہ کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ نے ریاستِ مدینہ کی شکل میں پیش کیا۔

اس پوری صورتحال کو اس سادہ سی مثال سے سمجھیے۔ فرض کریں آپ ایک ٹرین میں سفر کر رہے ہیں۔ آپ ڈبوں میں بیٹھے تمام مسافروں کو تبلیغ کرتے ہیں کہ باوضو رہو اور سچ بولو (Bottom-Up Approach)۔

یہ یقیناً ایک عظیم کام ہے! لیکن اس ٹرین کے سٹیرنگ پر جو “خونی درندہ ڈرائیور” (سیاسی اقتدار اور ظالمانہ قانون سازی) بیٹھا ہے، وہ ٹرین کو سیدھا گہری کھائی کی طرف لے جا رہا ہے (Top-Down Crisis)۔

اگر مسافروں نے کھڑے ہو کر ڈرائیور کا گریبان نہ پکڑا اور اسے ہٹا کر خود کنٹرول نہ سنبھالا، تو ڈبے کے تمام تہجد گزار اور نیک مسافر بھی ایک ساتھ کھائی میں گر کر تباہ ہو جائیں گے۔ سیرت کا فلسفہ یہی ہے کہ مکہ میں اخلاقی انقلاب لایا گیا، لیکن ان اخلاقیات اور عدل کو غالب کرنے کے لیے مدینہ کی ریاست (State Power) کا قیام لازمی تھا۔ اقامتِ دین دراصل اخلاقی پاکیزگی اور سیاسی بالادستی کے اسی بے نظیر امتزاج کا نام ہے۔

اب آپ کا فیصلہ کیا ہے؟

آج امت جس نازک موڑ پر کھڑی ہے، وہاں صرف فروعی اور روایتی نیکیاں ہمیں زوال سے نہیں بچا سکتیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جن بتوں کو توڑا، وہ پتھر کے تھے؛ آج کا طاغوت لکڑی یا پتھر کا نہیں بلکہ یہ جدید دجالی “ریاستی اور معاشی نظام” ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “تحریکِ اسلامی” اور اقامتِ دین کی جدوجہد کائنات میں انسان کی بقا کی واحد امین نظر آتی ہے۔ یہ محض کوئی گروہ یا سیاست نہیں، بلکہ اللہ کی زمین پر اللہ کے مکمل نظام کے نفاذ کا مشن ہے۔ ہمیں اپنے شعور کی گہرائیوں میں یہ بات اتارنا ہو گی کہ دین کسی متبادل یا ادھورے نظام پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ یا تو آپ کی ذات مکمل طور پر طاغوت کے تابع ہے، یا پھر سراپا بغاوت بن کر اسلامی نظام کی بالادستی کا تقاضہ کرتی ہے اس کے درمیان کوئی راہ نہیں!

بیدار ہوئیے! اپنے گرد موجود ظالم نظام سے سمجھوتہ کرنا چھوڑیے، اور “نظامِ کائنات” سے جڑنے کے لیے اقامتِ دین کی اس عظیم جدوجہد کا حصہ بنیے۔ وقت ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہا ہے، اور آج پھر تاریخ کے صفحات پر باطل کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے نام لکھے جا رہے ہیں۔ کیا آپ کا نام اس فہرست میں شامل ہے؟